اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنہوں نے مختصر عرصے میں اسی نظام کے ذریعے سیاسی مقام حاصل کیا، وہ اب اسی نظام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ہٹیاں بالا، آزاد کشمیر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بعض سیاسی رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، حالانکہ وہ خود اسی نظام کے تحت آگے بڑھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سفر عام طور پر کئی دہائیوں میں طے ہوتا ہے، وہ چند برسوں میں مکمل کرنے کے بعد اب نظام کو ناکام قرار دینا مناسب نہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا پارلیمانی جمہوری ڈھانچہ قائداعظم محمد علی جناح کے سیاسی وژن اور طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے، اس لیے اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔رانا ثنا اللہ نے انتخابی عمل پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم کے انتخاب کو فارم 47 سے جوڑا جاتا ہے تو پھر یہی منطق دیگر آئینی عہدوں کے انتخاب پر بھی لاگو ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی تنقید میں یکساں معیار اختیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بارے میں کیے جانے والے دعوؤں کا بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاسی تاریخ کو مکمل تناظر میں دیکھنا چاہیے اور صرف منتخب واقعات کی بنیاد پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ان کے بقول موجودہ نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔



















































