جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سانحہ منیٰ میں شہید پاکستانی حجاج کی تعداد 36 ہوگئی،300 سے زائد اب بھی لاپتہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

ریاض(نیوز ڈیسک) سانحہ منیٰ میں شہید پاکستانی حجاج کی تعداد 36 ہوگئی جب کہ 300 سے زائد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سانحہ منیٰ میں شہید پاکستانی حجاج کی تعداد 36 ہوگئی جس کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور نے اپنی ویب سائٹ پر شہدا کے نام بھی جاری کردیئے۔ وزیرمذہبی امور سردار یوسف کے مطابق منی میں زخمی ہونے والے پاکستانی حجاج کی تعداد 35 ہے جب کہ 85 لاپتہ ہیں اور 217 لاپتہ حجاج کرام مل چکے ہیں جو اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ گئے ہیں۔ سردار یوسف کا کہنا تھا کہ منی میں زخمی ہونے والے حجاج کرام کو سعودی حکام نے دیگر شہروں میں بھی منتقل کیا ہے تاہم وزارت مذہبی امور حجاج کی معلومات کے لئے سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاہم سب سے زیادہ پاکستانی حجاج کی شہادت سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر درست نہیں۔شہید ہونے والوں میں رحیم یارخان کے سیٹلائٹ ٹاؤ ن سے تعلق رکھنے والے توصیف افتخار، شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے حج میڈیکل مشن میں شامل ڈاکٹر امیرلاشاری، ملتان سے تعلق رکھنے والی 7 سالہ بچی ثمرین جب کہ شہید ہونے والے دیگر پاکستانیوں میں کراچی کے علاقے صدر کی حفصہ شعیب اور زرین نسیم، میر پور آزاد کشمیر کی نرجس شہناز، دالبندین کی بی بی زینب، بی بی مدینہ، نور محمد اور محمد اسلم کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بھانجے اسد مرتضیٰ گیلانی شامل ہیں، سانحہ منیٰ میں شہید ہونے والوں میں جھنگ کے سراج احمد سراج، ایبٹ آباد کے زاہد گل بھی شامل ہیں۔شہید ہونے والے حجاج کرام میں لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں محمد ریاض،

مزید پڑھئے:امریکا کی ڈرون طیارے کے بعد ایک او ر ہولناک ایجاد،زمینی جنگ کا تصور ہی بدل گیا

عارف اور پاک انڈس ٹریول سے حج پر جانے والے عبدالرحمان ولد اسماعیل، شہناز قمر ولد عبدالرحمان بھی شامل ہیں۔ وزارت مذہبی امورکی ویب سائٹ پر ایسے حجاج کے نام بھی دیئے گئے ہیں جن کے گھر کا پتہ نہیں دیا گیا جن میں محمد ابراہیم خان، آصف خان، بی بی شاکرہ، عزیز میاں، تلمیز خان، حاجی عباس خان ولد ٹوٹل خان، عبدالاحد ولد بادشاہ میر، بی بیزارا، محمد اسماعیل خان، توصیف افتخار، مدینہ بی بی، محمد اسلم، نور محمد، نجمہ مسمات محتار احمد خان، گل شہناز مسمات غلام ربانی، محمد ادریس ولد محمد دین، عامر محمد ملوک، عظیم خان ولد قادر خان، محمد حسرت ولد علی اصغر، بشریٰ بی بی، اسلام احمد، رشیدن بی بی اور محمود ارشد شامل ہیں۔دوسری جانب برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ سانحہ منی میں سب سے زیادہ شہادتیں پاکستانیوں کی ہوئی ہیں جب کہ اس سانحے میں 236 پاکستانی،131 ایرانی اور 87 مراکشی حجاج کرام شہید ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…