اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی سے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے 30 ستمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 30 ستمبر بروز بدھ تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے سینٹ قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی رکنیت مطل کر دی جائیں گی ۔الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی اور قومی اسمبلی و سینٹ کے کل 1174 اراکین میں سے صرف 207 ارکان نے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی ہیں جن میں قومی اسمبلی کے 62 ، سینٹ کے 30 ، پنجاب اسمبلی کے 61 ، سندھ اسمبلی کے 33 ، خیبرپختونخوا کے 10 جبکہ بلوچستان اسمبلی کے صرف 11 اراکین نے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک 958 اراکین نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائی ہیں ۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اراکین کو 30 ستمبر تک مہلت دی گئی تھی اس مہلت میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی ۔
الیکشن کمیشن کا اراکین اسمبلی سے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد
-
پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر کابینہ سے برطرف ، نوٹیفکیشن جاری
-
بجلی کا بل جمع کرانے کے حوالے سے صارفین کے لیے بڑی خبر
-
راولپنڈی؛ شوہر کو 2 بیویوں سمیت قتل کرنے کی اہم وجہ سامنے آگئی، مقدمہ درج
-
عمرے پر جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر
-
رمضان المبارک میں ان تنظیموں کو عطیات نہ دیں، اہم ہدایات جاری
-
آئی فون صارفین کے لیے اچھی خبر ، ایپل نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی
-
غزہ میں کون کون سے مسلم ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتادیا
-
پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اچانک حرکت قلب بند ہونے پر انتقال کر گئے
-
پاکستان تحریک انصاف کے 3 سینئر رہنمائوں کی ضمانت منظور
-
بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس،ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا
-
محکمہ موسمیات کی موسم کے حوالے سے اہم پیشگوئی
-
قومی کپتان اور ہیڈ کوچ کے درمیان تکرار، سلمان علی آغا نے غصے میں بوتل زمین پر پھینک دی
-
ویوین رچرڈز سے محبت اور بیٹی کی پیدائش کے سوال پر نینا گپتا کا دو ٹوک جواب



















































