جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

تین پاکستانی شہریوں سمیت 717 حاجی شہید، سینکڑوں زخمی،معلومات کیلئے نمبر جاری

datetime 24  ستمبر‬‮  2015 |

منیٰ(نیوزڈیسک) منیٰ میں مناسک حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کرام بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے میں مصروف تھے کہ اچانک بھگڈر مچ گئی جس کے نتیجے میں دو پاکستانی شہریوں سمیت 717 حجاج کرام شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق بھگڈر کا واقعہ مکتب نمبر 93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے شہری مقیم تھے۔ زیادہ تر شہدائ اور زخمیوں کا تعلق بھی الجزائر سے ہی ہے۔ واقعے کے بعد سعودی حلال احمر، ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینس جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور زخمی ہونے والے حجاج کو فوری طور پر منیٰ جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر حجاج کرام کی ہلاکتیں دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہیں اورچند افراد بھگڈر کے دوران کچل جانے کے باعث شہید ہوئے۔ منیٰ جنرل ہسپتال میں مجموعی طور پر چار سو سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ منیٰ جنرل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سعودی حکام نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے سانحہ منیٰ پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سفیر کو ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت اور علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے منیٰ میں بھگڈر واقعے کے نتیجے میں حاجیوں کے شہید ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں کی خیریت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب میں موجود عملے سے رابطے میں ہیں۔ دفتر خارجہ نے پاکستانی حاجیوں کے حوالہ سے معلومات کے لیے نمبر جاری کر دئیے۔ پاکستانی حاجیوں سے متعلق تفصیلات 00966125277537 سے لی جا سکتی ہیں۔ منیٰ میں مکتب نمبر ترانوے کے قریب پیش ا?نے والے افسوس ناک واقعہ میں لاہور کے علاقے گرین ٹاو¿ن کے حاجی عارف حسین بھی جام شہادت نوش کر گئے۔ سعودی ذرائع کے مطابق بھکر کے حاجی خلیل اور تخت بھائی کے تئیس سالہ عبدالمالک بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ حادثے میں پاکستانی حجاج زخمی بھی ہوئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے سانحہ منیٰ پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر کو زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ دفتر خارجہ نے بھی پاکستانی حجاج کی معلومات کیلئے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے جس کا نمبر 00966125277537 تو جاری کر دیا گیا لیکن رابطہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستانی ڈائریکٹوریٹ حج کا کوئی اہلکار بھی حجاج کی رہنمائی کے لئے جائے حادثہ پر موجود نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…