جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی

datetime 2  اگست‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بحیرہ عرب سے مون سون کے بادل کے داخل ہونے کی وجہ سے 2 اگست سے ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کے ایک اور اسپیل کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی لہر کے 3 اگست بروز جمعرات کو ملک میں داخل ہونے کا امکان ہے۔نئے اسپیل کے تحت آزاد جموں و کشمیر کی وادی نیلم، مظفر آباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھانوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 2 اگست کی رات سے 7 اگست تک وقفے وقفے سے آندھی/گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

اسی طرح دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گھانچے، شگر، مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، دیر، شیخوپورہ، لاہور، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، صوابی، اور نوشہرہ میں بھی اسی طرح کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے کرم، لکی مروت، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنی، کرک، وزیرستان، قصور، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور بھکر میں 4 سے 7 اگست تک وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں مزید خبردار کیا ہے کہ بارشیں 4 سے 7 اگست تک کشمیر، اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا باعث بن سکتی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ موسلا دھار بارش اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے اور مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے مسافروں اور سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ جس عرصے میں بارش کی پیش گوئی ہے اس مدت میں وہ محتاط رہیں۔اس کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے متعلقہ واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ شدید بارشوں کے نتیجے میں 200 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ملک بھر میں سڑکوں کی صورتحال کے حوالے سے بتاتے ہوئے این ڈی ایم اے نے کہا کہ بالائی چترال میں میراگرام-II اور مستوج سے یارخون کی سڑک سیلاب کی وجہ سے بند ہے۔

قراقرم ہائی وے کا کچھ حصہ ابھی بھی لاچی نالہ، ہربن اور بھاشا پر بلاک ہے، ہائی وے کو گلگت بلتستان میں بھی متعدد مقامات پر بلاک کر دیا گیا ہے اور سڑکوں کی جلد بحالی کے لیے مشینری کو متحرک کر دیا گیا ہے۔اتھارٹی کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج پر آئندہ 24 گھنٹوں میں درمیانے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے کہا گیا کہ ڈی جی خان اور بارکھان کے پہاڑی ندی نالوں میں پانی کے بہا میں تیزی کا امکان ہے اور گلگت بلتستان کے دریاں اور ندی نالوں میں بہا میں اضافے اور پہاڑی وادیوں میں برفانی جھیلوں سے سیلاب آنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…