پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کا افغان سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ازخود کارروائی پرغور

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بڈھ بیر کیمپ پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف از خود کاروائی پرغور شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بڈھ بیر کیمپ حملے اور اس سے قبل آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے میں تحریک طالبان پاکستان کا ہی ایک ذیلی گروپ “تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل ” ملوث ہے اور اس کے لیڈر عمر خلیفہ یا عمر نرے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت افغانستان کے سرحدی علاقے میں روپوش ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اگرچہ عمر خلیفہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے نائبین میں شامل ہے مگر اپنی ہولناک دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے اس وقت وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے لیے نمبر ایک دشمن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام ایک بار پھر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش تحریک طالبان پاکستان کے رہنماوں کے بارے میں مکمل ثبوت اور شواہد افغان حکومت کے حوالے کریں گے اور افغان حکام سے ان کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تاہم اگر اس حوالے سے افغانستان کی جانب سے تساہل برتا گیا تو پاکستانی سیکیورٹی فورسز خود بھی ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کرے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں افغان سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول نہیں اور وہاں مختلف شدت پسند گروہوں کی عملداری ہے جس کا فائدہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اٹھارہی ہے اور اس نے ان علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ افغان حکام کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف تعاون بڑھانے اور ان کے ساتھ شواہد “شیئر” کرنے کے لیئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف عنقریب کابل کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…