جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا افغان سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ازخود کارروائی پرغور

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بڈھ بیر کیمپ پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف از خود کاروائی پرغور شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بڈھ بیر کیمپ حملے اور اس سے قبل آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے میں تحریک طالبان پاکستان کا ہی ایک ذیلی گروپ “تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل ” ملوث ہے اور اس کے لیڈر عمر خلیفہ یا عمر نرے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت افغانستان کے سرحدی علاقے میں روپوش ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اگرچہ عمر خلیفہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے نائبین میں شامل ہے مگر اپنی ہولناک دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے اس وقت وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے لیے نمبر ایک دشمن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام ایک بار پھر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش تحریک طالبان پاکستان کے رہنماوں کے بارے میں مکمل ثبوت اور شواہد افغان حکومت کے حوالے کریں گے اور افغان حکام سے ان کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تاہم اگر اس حوالے سے افغانستان کی جانب سے تساہل برتا گیا تو پاکستانی سیکیورٹی فورسز خود بھی ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کرے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں افغان سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول نہیں اور وہاں مختلف شدت پسند گروہوں کی عملداری ہے جس کا فائدہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اٹھارہی ہے اور اس نے ان علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ افغان حکام کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف تعاون بڑھانے اور ان کے ساتھ شواہد “شیئر” کرنے کے لیئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف عنقریب کابل کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…