ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان، آرمی چیف بند کمرے میں بیٹھ کر اپنے گلے شکوے دور کرلیں، اسد عمر

datetime 9  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے تجویز دی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بند کمرے میں براہِ راست ایک دوسرے سے بات چیت کر کے گلے شکوے دور کرلیں۔ایک انٹرویومیں انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے آرمی چیف اور عمران خان تک درست باتیں نہ پہنچائی جارہی ہوں۔

اسد عمر نے بات چیت کرنے کی تجویز میزبان کے اس کے سوال کے جواب میں دی کہ چاہتے یا نا چاہتے ہوئے آپ کی جماعت اسٹیبلشمنٹ مخالفت کی مکمل تصویر بن چکی ہے، وزیراعظم شہباز شریف، آصف زرداری یہاں تک کے محسن نقوی نے بھی کہہ دیا ہے کہ ریڈ لائن نہ کراس کی جائے عمران خان اداروں کو بدنام کرنے کی حد عبور کرچکے ہیں بلکہ سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ ’میں اس شخص کا زوال دیکھ رہا ہوں۔میزبان نے سوال کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس حکمت عملی کے ساتھ الیکشن ہو بھی جائیں تو کیا آپ کو حکومت بنانے دی جائے گی؟جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے سیاستدانوں کی تنقید رد کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کو اس وقت ادارے کا بہت احساس ہورہا ہے جنہوں نے بطور صدر پاکستان ٹیلی ویڑن پر کہا تھا کہ ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، آپ ہوتے کون ہیں ہماری طرف دیکھنے والے۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح شہباز شریف کے بھائی اور بھتیجی بھی حاضر سروس آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بارے میں کیا کیا کہتے رہے ہیں، تو ان لوگوں کی باتیں تو چھوڑ دیں، ان کی باتیں سیاسی بیانات کے سوا کچھ نہیں۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ادارے کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے تاہم اس میں کوی شک نہیں کہ عمران خان نے ایک حاضر سروس جرنیل فیصل نصیر کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے ادارے پر نہیں بلکہ ایک شخص کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں، وہ مقبولیت کے اس عروج پر ہیں جو قائد اعظم کے بعد پاکستان کی سیاست میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔انہوںنے کہاکہ فوج پاکستان کا سب سے بڑا منظم ادارہ ہے

میں کہوں گا وقت آگیا ہے کہ عمران خان اور جنرل عاصم منیر ایک کمرے میں ون آن ون بیٹھیں، کوئی بھی نہ ہو اور دروزاہ بند کردیں اور جو دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہیں وہ کرلیں، جو تحفظات عمران خان کے ذہن میں ہیں وہ جنرل عاصم منیر کھلے دل سے سنے اور اگر آرمی چیف کے ذہن میں کوئی تحفظات ہیں تو وہ عمران خان کے سامنے کرلیں۔اسد عمر نے کہاکہ اس وقت ایک کھچاؤ کی صورت نظر آرہی ہے

یہ کوئی مثبت صورتحال نہیں ہے۔میزبان نے سوال کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کوئی ہے جو بدگمانیاں پیدا کررہا ہے جس پر اسد عمر نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے، ہوسکتا ہے کہ جو خبریں جنرل عاصم منیر کے پاس پہنچائی جارہی ہوں وہ سچی نہ ہوں اور ہوسکتا ہے کچھ باتیں جو عمران خان تک پہنچائی جارہی ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر حل کرلیں

ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ان کا ذاتی مؤقف ہے اور کہا کہ میریخیال میں کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہاکہ اگر صورتحال ایسی ہے کہ ہر ٹی وی پروگرام میں یہی سوالات پوچھے جائیں تو بہتر ہے کہ بات چیت سے معاملہ سلجھا لیا جائے۔خیال رہے کہ ہفتے کے روز اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کے درمیان چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اظہار یکجہتی کے لیے پی ٹی آئی کی نکالی گئی احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے

عمران خان نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر پر سخت تنقید کی تھی۔عمران خان نے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس شخص کا نام یاد رکھنا جس نے مجھے پہلے بھی دو بار مارنے کی کوشش کی جس کے ردِ عمل میں گزشتہ روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی، افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے یہ ایک مستقل طرز عمل بن گیا ہے

جس میں فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اشتعال انگیز اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم متعلقہ سیاسی رہنما سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں اور جھوٹے الزامات لگانا بند کریں۔فوج کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی حاضر سروس جنرل کے خلاف بیان دینے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…