بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

آئی جی پنجاب کے’ حقیقی بھائی“ کی بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے کی” حقیقی کہانی“ سامنے آگئی

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ٹکٹ ہولڈر اور آئی جی پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا کے حقیقی بھائی اعجاز احمد سکھیرا تحصیل دیپالور کی یوسی 135 سے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے خبر رساں ادارے آن لائن کے مطابق جہاں پہلے تو کسی جماعت کے امیدوار کو ”مقابلہ“ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی کیونکہ وہ ”مقابلہ میں پار“ نہیں ہونا چاہتے تھے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل کونسلر نے ہمت کرکے اعجاز احمد سکھیر ا پینل کے خلاف کاغذات جمع کروا دئیے جس کے بعد مبینہ طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو کاغذات جمع کروانے کے بعد”محبت“ کا پیغام بھیجا گیا جسے مرتے کیا نہ کرتے”قبول“ کرنا پڑا۔سیاسی حلقوں کے مطابق اعجاز احمد سکھیرا کو چیئرمین ضلع کونسل بنانے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ضلع اوکاڑہ کی تحصیلوں بصیر پور،دیپالپور اور یجرہ شاہ مقیم کے صدر تھانوں میں آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کے قریبی رشتہ دار تعینات ہیں جبکہ سیاسی اثر و رسوخ ہونا لازمی امر ہے۔اس طرح پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ پانچویں سیٹ ہے جہاں چیئرمین یوسی بلا مقابلہ منتخب ہوا ہے، صوبائی دارالحکومت لاہور کی یوسی107 میں بلامقابلہ منتخب ہونے والے خواجہ احمد حسان وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اور لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے چیئرمین ہوتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیا۔ اسی طرح وہاڑی سے زاہد دولتانہ،کڑوپکا سے میاں راجن سلیمان اور ملک احمد نواز سب کے مقابلے پر صرف پی ٹی آئی والے ہی رہ گئے تھے جس کو ”محبت“ کے ساتھ سیاسی طور پر بٹھایا اور علاقائی سیاست میں خاموش کرادیا گیا۔

مزید پڑھئے:خیبرپختونخوا،تحریک انصاف نے متعددمنتخب ارکان پارٹی سے نکال دیئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…