بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

زرداری کرپشن مقدمات: ‘لاپتہ’ گواہ سامنے آگیا

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کےخلاف کرپشن کے 2 ریفرنسز کا ایک اہم ‘لاپتہ’ گواہ اب بیان دینے کے لیے دستیاب ہے.اے آر وائی گولڈ اور ا±رسس ٹریکٹر کرپشن ریفرنسز میں سابق صدر زرداری کی بریت کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل (اے ڈی پی جی) چوہدری ریاض نے عدالت کو بتایا کہ پی پی پی کی گذشتہ حکومت کے دوران احتساب سیل کے سابق جوائنٹ سیکریٹری حسن وسیم افضل سے رابطہ نہیں ہوپایا تھا.چوہدری ریاض کے مطابق زرداری کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں شریک ملزم حسن وسیم افضل کو عدالتی کارروائیوں کے دوران متعدد مرتبہ طلب کیا گیا، تاہم نہ تو انھوں نے جواب دیا اور نہ ہی کورٹ میں پیش ہوئے، جبکہ ا±س وقت ان کے ٹھکانے کے بارے میں بھی کسی کو علم نہیں تھا.انھوں نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ گواہ کی عدم دستیابی کی بنا پر استغاثہ کو انھیں گواہوں کی فہرست میں سے خارج کرنا پڑا تھا.جس پر جسٹس نور الحق این قریشی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے ریمارکس دیئے کہ استغاثہ کی جانب سے گواہ کی حاضری کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوسکتے ہیں.دوسری جانب عدالت نے نیب کو اے آر وائی اور ا±رسس کرپشن ریفرنسز کی عدالتی کارروائی کا ریکارڈ دو ہفتوں کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا.و¿یاد رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی احتساب عدالت نے 12 دسمبر 2014 کو دونوں ریفرنسز (اے آر وائی گولڈ اور ا±رسس ٹریکٹر) میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بریت کی درخواستیں منظور کی تھیں، بعد ازاں نیب نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔نیب کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں استدعا کی گئی تھی کہ احتساب عدالت کی جانب سے دونوں ریفرنسز میں آصف علی زرداری کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے تا کہ ان ریفرنسز میں شہادتیں اور گواہان پیش کیے جا سکیں.سابق صدر زرداری کے خلاف اے آر وائی گولڈ ریفرنس میں اے آر وائی ٹریڈرز کو سونے اور چاندی کی درآمد کا لائسنس جاری کرنے اور مبینہ کرپشن جبکہ ا±رسس ریفرنس میں عوامی ٹریکٹر اسکیم کے تحت روسی اور پولینڈ ساختہ ٹریکٹروں کی خریداری میں مبینہ کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…