ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

بڑھتا مالی خسارہ پاکستان کیلئے خطرناک قرار، عالمی بینک کی سبسڈیز ختم کرنے کی تجویز

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)عالمی بینک نے بڑھتے مالی خسارے کو ملکی معیشت کیلیے خطرناک قرار دیتے ہوئے سبسڈیز ختم کرنے سمیت دیگر تجاویز دی ہیں۔پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے عالمی بینک نے قرضوں کی مینجمنٹ اور سنگل ٹریژری اکاونٹ قائم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان غیر ضروری اخراجات

اور سبسڈیز ختم کرکے سالانہ 2 ہزار 723 ارب روپے کی بچت کر سکتا ہے ۔نیز ریونیو میں اضافے، انتظامی اقدامات کے ذریعے جی ڈی پی کے 4 فیصد کے مساوی بچت ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق ترقیاتی بجٹ محدود کرنے سے 315 ارب بچائے جا سکتے ہیں۔عالمی بینک نے وفاقی اخراجات کی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بی آئی ایس پی کے 90 فیصد خرچے سمیت متعدد معاملات صوبوں کے سپرد کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات اور سبسڈیز ختم کرکے 2 ہزار 723 ارب روپے کی بچت باآسانی کی جا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی حکو مت کا ٹیکس آمدن حصہ صرف 46 فیصد جب کہ اخراجات 67 فیصد ہیں۔ سود،سبسڈیز اور تنخواہوں کے اخراجات وفاقی حکومت پر بڑا بوجھ ہیں۔ اخراجات اور خسارے میں اضافہ 18 ویں ترمیم کے بعد ہوا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات،سبسڈیز ختم کرکے سالانہ 2 ہزار 723 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔بجٹ کا 70 فیصد تو انہی پر خرچ ہو جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ سال 7.9 فیصد مالی خسارہ 22 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،جس سے قرضوں کی شرح بھی 78 فیصد کی بلند سطح تک ریکارڈ کی گئی جب کہ پاکستان میں مجموعی محصولات جی ڈی پی کا 12.8 فیصد ہیں۔ عالمی بینک نے معیشت کی بہتری کے لیے قرضوں کی مینجمنٹ اور سنگل ٹریژری اکاونٹ قائم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ

پاکستان غیر ضروری اخراجات اور سبسڈیز ختم کرکے سالانہ 2 ہزار 723 ارب روپے کی بچت کر سکتا ہے ۔ریونیو میں اضافے، انتظامی اقدامات کے ذریعے جی ڈی پی کے 4 فیصد کے مساوی بچت ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق ترقیاتی بجٹ محدود کرنے سے 315 ارب بچائے جا سکتے ہیں۔ صحت و تعلیم صوبائی معاملہ ہے، ان کی مد میں 328 ارب روپے کی بچت ممکن ہے جب کہ بی آئی ایس پی کا 90 فیصد خرچہ صوبے اٹھائیں تو 217 ارب کی بچت ہوسکتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…