ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ایچ ای سی کی جانب سے غیر مجاز طور پر ترقیاتی فنڈز کمرشل بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کئے جانے کا انکشاف

datetime 13  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں ایچ ای سی کی جانب سے غیر مجاز طور پر ترقیاتی فنڈز کمرشل بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کئے جانے کا انکشاف ہواہے ۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے متعلق سال 2021-22 کے

آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا جس میں ایچ ای سی کی جانب سے غیر مجاز طور پر ترقیاتی فنڈز کمرشل بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کئے جانے کا انکشاف ہو ا۔آڈٹ بریف کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے 28 ارب کے ترقیاتی فنڈز مختلف یونیورسٹیوں کو ٹرانسفر کئے گئے،یونیورسٹیوں کو کمرشل اکاؤنٹس میں فنڈز ٹرانسفر کئے گئے۔آڈٹ بریف کے مطابق غیر مجاز طور پر ترقیاتی فنڈز کمرشل بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کئے گئے، یونیورسٹیوں نے اسائمنٹ اکاؤنٹ کھولنے تھے اور ان میں فنڈز رکھنے تھے۔کمیٹی نے ایچ ای سی حکام کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ چیئر مین نے کہاکہ ان سب کو پھر ایک ڈی اے سی کروا لیتے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے کہاکہ یہ اہم ترین سیکٹرز میں سے ہے۔نور عالم خان نے کہاکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ گلگت میں نیشنل بینک نہ ہو۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ یہ چالیس پچاس ارب کی بات ہے۔چیئرمین کمیٹی نے ایچ ای سی حکام کو ہدایت کی کہ آپ کے بیان میں فرق ہے، اس آڈٹ پیریپر ڈی اے سی کرالیں۔ نور عالم خان نے کہاکہ لگتا ہے آڈٹ پیراز پر آپ نے پراپر ڈی اے سی نہیں کی۔کمیٹی نے ایچ ای سی کے تمام آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ ڈی اے سی کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی کی ایچ ای سی کے ترقیاتی اخراجات کے لئے دی گئی گرانٹ میں سے رقم لیپس ہونے کے معاملے کی انکوائری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…