ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شرح سود میں اضافہ اور طلب میں کمی سے آٹو سیکٹر کو فروخت میں کمی کا سامنا

datetime 7  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) کاریں بنانے والی معروف آٹو کمپنی کی جانب سے کاروں کی قیمتیں بڑھادی ہیں،صرف 2023 میں گاڑیوں کے نرخوں میں مجموعی اضافہ 1.203 ملین روپے تک ہے،آٹو سیکٹر پہلے ہی فروخت میں کمی کا سامنا کر رہا ہے، حالیہ مہینوں میں 20-25 فیصد کمی کی اطلاع دی جا رہی ہے، جس کی وجہ آٹو ماہرین بلند قیمتوں اور سیاسی عدم استحکام کو قرار دیتے ہیں،

قیمتیں متوسط آمدنی والے طبقے اور کم درمیانی آمدنی والے شہریوں کے لیے کاریں خریدنا ناقابل برداشت بنا رہی ہیں،شرح سود میں اضافے نے 24-25% شرح سود پر کار لیز پر دینا بھی ایک چیلنجنگ امکان بنا دیا ہے۔ماہرین آٹو سیکٹر کے مطابق ملک میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے طلب میں کمی اور اعتماد سازی کا فقدان ہے۔گزشتہ روز اکنامک رپورٹرز کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈاسیسریز مینوفیکچررز(پاپام)کے سابق چیئرمین اور مہران کمرشل انٹرپرائز کے ڈائریکٹر مشہودعلی خان نے گفتگو کے دوران کہا کہ طلب میں کمی کی بنیادی وجہ قیمتوں میں زبردست اضافہ ہے۔ مزید برآں بینک فنانسنگ میں لچک کا فقدان بھی اس مسئلے میں حصہ ڈال رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کار فنانسنگ زیادہ قابل رسائی ہو جائے تو بھی درآمد کا مسئلہ حل طلب ہی رہتا ہے،ملک میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے طلب میں کمی اور اعتماد سازی کا فقدان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…