ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کی برطرفی کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

datetime 7  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عطا بندیال کی برطرفی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کردی گئی۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ درخواست مقامی وکیل راجہ سبطین خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ

چیف جسٹس مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار پائے ہیں اس لیے چیف جسٹس کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے۔وکیل نے یہ شکایت پنجاب کے پی انتخابات کیس کی بنیاد پر دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انتخابات ازخود نوٹس سے سپریم کورٹ متنازع بنی، زبان زدعام ہے کہ چیف جسٹس نے عدلیہ میں گروپنگ قائم کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے گروپنگ مدنظر رکھتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تاکہ فیصلہ اکثریت سے حاصل کیا جاسکے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال نے سپریم کورٹ میں بغاوت جیسی صورتحال کو جنم دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی حمایت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی۔اختیارات کے غلط استعمال نے سپریم کورٹ میں بغاوت جیسی صورتحال کو جنم دیا، نامور ججز نے چیف جسٹس کے طرز عمل اور تعصب پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج تک کسی چیف جسٹس پر اس قسم کے مس کنڈکٹ کے الزامات نہیں لگے، تحریک انصاف کی طرف چیف جسٹس کا جھکاو نمایاں ہے۔(ن) لیگی سینئر نائب صدر نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…