بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ریحام خان کے بیٹے کا اپنی والدہ کے حق میں بیان سامنے آ گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ریحام خان کے بیٹے ساحر نے اپنے والد اعجاز الرحمان کے دعوﺅں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کے والد نے جھوٹ بولا تھا کہ انہوں نے ریحام خان کو کبھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔ ساحر نے اپنے ذاتی بلاگ میں لکھا ہے کہ گھریلو تشدد کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اس کو رپورٹ کرنے مطلب یہ نہیں کہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔ ساحر کا کہنا تھا کہ ان تمام تر واقعات کے باوجود ان کی والدہ ریحام خان نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے شوہر اعجاز الرحمان کے کیریئر کو نقصان پہنچے۔ساحر نے اپنے بلاگ میں اپنے والد اعجاز الرحمان کے خلاف عدالتی فیصلوں کو بھی اپ لوڈ کیا ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق برطانیہ کی کنگسٹن اپوون ہل کاﺅنٹی کے جج نے اپنے فیصلے میں اعجاز الرحمان کو حکم دیا تھا کہ وہ ریحام خان اور ان کے بچوں سے دور رہیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ اعجاز الرحمان عدالت میں درخواست گزار ریحام خان کو کبھی ہراساں نہیں کریں گے اور نہ ہی انھیں ان کی رہائشگاہ کے 100 میٹرز قریب تک جانے کی اجازت ہے۔ ریحام خان کے بیٹے ساحر نے اپنے بلاگ میں بتایا ہے کہ ان کی والدہ کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے دو، دو ملازمتیں کرنا پڑیں اور انہوں نے کبھی انھیں کسی موقع پر جھکنے نہیں دیا۔ اپنے والد اعجاز الرحمان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ساحر کا کہنا ہے کہ انھیں یہ دیکھ کر ذرا حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے یہ تمام دعوے شہرت پانے کیلئے کئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اور اس کی والدہ ریحام خان اور اس کی بہنیں ایک ٹیم ہیں۔ میری والدہ ایک فائٹر ہیں اور اس طرح کی خبریں انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ساحر کا کہنا تھا کہ کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ میں ان تمام واقعات کے بعد خود کو روکنے کی کوشش کی تاہم اب ایسا کرنا میرے لئے ناممکن ہو گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…