جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ٹنڈولکر کو آئوٹ کرنے کا افسوس ہے، شعیب اختربدستور بھارتیوں کی خوشنودی میں سرگرم

datetime 19  مئی‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )شعیب اختر بدستور بھارتیوں کی خوشنودی میں سرگرم ہیں،انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی تک ورلڈ کپ 2003 میں سچن ٹنڈولکر کو98پر آئوٹ کرنے کا افسوس ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں انہیں اپنے بائونسر پرچھکا لگاتا دیکھنا چاہتا تھا تھا لیکن وہ کیچ دے بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق ایسے وقت میں جب پوری بھارتی برادری شاہد آفریدی کے مقبوضہ کشمیر پر دیئے گئے بیان پر متحد ہوکر پاکستان کے خلاف نفرت آمیز بیانات دے رہی ہے وہیں سابق پاکستانی فاسٹ بالر شعیب اختر بھارت نوازی میں مشغول ہیں۔انہوں نے یہاں تک اعتراف کرلیا کہ وہ ورلڈ کپ 2003 میں سچن ٹنڈولکر کو اپنی ہی ٹیم کے خلاف سنچری سکور کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔یاد رہے کہ سنچورین میں کھیلے گئے اس مقابلے میں پاکستان نے سعید انور کی سنچری سے تقویت پاکر 7وکٹوں کے نقصان پر273رنز سکور کیے تھے،جواب میں بھارت نے سچن ٹنڈولکر کے98رنز کی بدولت یہ میچ 6وکٹوں سے جیت لیا تھا،شعیب اختر کو اابھی تک اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے سچن ٹنڈولکر کو آٹ کیو ں کیا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے سچن ٹنڈولکر کے98رنز پر آٹ ہونے کا بہت زیادہ افسوس ہوا تھا،وہ ایک خاص اننگز تھی،انہیں سنچری لازمی سکور کرنا چاہیئے تھی اورمیں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ ایسا کریں،جس بانسر پر وہ آٹ ہوئے میری خواہش تھی کہ وہ اس پر چھکا جڑتے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شعیب اختر نے بھارتیوں کو خوش کرنے کے لیے ایسا بیان دیا ہو،سابق بھارتی اوپنر وریندر سہواگ بھی کئی مرتبہ شعیب اختر کا مذاق اڑا چکے ہیں کہ وہ دولت کمانے کے لیے بھارتی شائقین کو خوش کرتے ہیں ۔شعیب اختر کے یوٹیوب چینل سبسکرائیبرزمیں بہت بڑی تعدادبھارتیوں کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…