صدر عارف علوی خالی اسمبلی سے خطاب کرتے رہے

  جمعرات‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2022  |  19:52

اسلام آباد (آن لائن) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے صدر مملکت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن اسمبلیوں کو آپ نے توڑ دیا تھا آج کس حیثیت سے اسی اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کے روز سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا،

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی ان کے ہمراہ تھے پارلیمنٹ کا اجلاس میں تلاوت،نعت اور ترانے کے بعد جیسے ہی صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب شروع کیا تو اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور وزیر دفاع خواجہ آصف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے راجہ ریاض نے کہا کہ آپ نے تو یہ اسمبلی توڑ دی تھی آج کس طرح سے اس ایوان میں خطاب کر رہے ہیں یہ خطاب غیر آئینی ہے آپ یہاں پر خطاب نہیں کر سکتے وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آپ نے اسمبلیوں کو توڑ دیا تھا آج کس حیثیت سے یہاں خطاب کر رہے ہیں۔اس موقع پر سینیٹر مشتاق احمد، عبدالاکبر چترالی، محسن داوڑ اسپیکر ڈائس کے سامنے زمین پر بیٹھ گئے بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین ایوان سے باہر چلے گئے اور صدر کے خطاب کے دوران صرف آٹھ سے دس اراکین ہی ایوان میں موجود تھے گویا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ میں خالی نشستوں سے خطاب کیا۔ ایوان میں علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)سے معاہدہ مناسب ہے لیکن پاکستان میں مستقل سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے، ملک میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے حکومت کو کوشش کرنی ہوگی،

جیسے جیسے سولر انرجی کی طرف جائیں تو آئندہ چند برس میں یوٹیلیٹی بھی کم ہوجائے گی، سیلاب کے نقصان کو کم کرنے کے لیے ملک میں نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔، افواج پاکستان نے سیلاب میں لوگوں کی مدد کی، سیلاب میں افواج پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے، سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا اور 1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، حکومت فصلوں کی انشورنس متعارف کرائے،دنیا کی جنگیں اب سائبر ورلڈ میں ہوں گی اس لیے دیکھنا ہوگا کہ اس میں ہماری تیاری کیا ہے،

گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں، گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا ایک فیصد بھی حصہ نہیں ہے، دنیا کو پاکستان کے سیلاب سے متعلق احساس ہے، این ڈی ایم اے، پاکستان ریڈ کراس، بوائر اینڈ گرلز اسکاؤٹس کو تیار ہونا چاہیے، آڈیو لیکس انتہائی سنگین پیش رفت ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے، قوم کو ہیجانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے سیاستدان آپس میں بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ طے کرلیں، اختلافات کا حل باہمی مشاورت سے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎