نواز شریف کی واپسی کا راستہ صاف ہو گیا

  منگل‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2022  |  22:33

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ 3 سال کے بعد پاپسورٹ واپس ملا لیکن مجھے میرے بنیادی حق سے کیوں محروم رکھا گیا، یہ میرے ذہن میں سوال آتاہے۔ وہ گزشتہ روز پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کر رہی تھی۔ اس موقع پر مریم نواز کے ہمراہ خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، پرویز رشید اور نصیر بھٹہ بھی موجود تھے۔

مریم نواز نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ چودھری شوگر ملز کیس کبھی میرے خلاف بنا ہی نہیں تھا لیکن اسی کیس میں مجھے نامزد کیا گیا، 2019 میں میرے بڑے بڑے جلسے ہو رہے تھے تو فتنہ خان کی ایما پر مجھ پر کیس بنایا گیا اورمجھے 57 دن نیب میں حبس بے جا میں رکھا گیا۔ میں پہلی خاتون تھی جسے نیب کی حراست میں رکھا گیا تھا ،جس قید خانے میں مجھے رکھا گیا۔ نیب نے وہ مردوں کے لیے بنایا تھا، وہاں پر تفتیش کا جو طریقہ تھا تھا، اس میںمجھ سے کون سی کتابیں پڑھتی ہو، پارٹی کی پالیسی کون بناتا ہے، کھانا کیا بنتا ہے وغیرہ بارے مجھ سے سوالات ہوتے رہے۔ پھر مجھے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا لیکن آج تک وہ کیس میرے خلاف رجسٹر نہیں ہو سکا ہے۔ میں یہ کیس ختم کروانے کی درخواست بھی جلد دائر کروں گی۔ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں چل سکتا اور کوئی ہے جو اس بات کا جواب دیں کہ میرا پاسپورٹ ناجائز طور پر کیوں رکھا گیا؟ میں نے 6 سال پانامہ والے جھوٹے مقدمے کو بھگتا، ایسا کیوں ہوا اور وہ جھوٹا مقدمہ بنایا ہی کیوں گیا؟ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات اس کا جواب دینے کے لئے کافی ہیں۔ عمران خان کے سب سے بڑے مخالف کو ہٹائے بغیر وہ الیکشن نہیں جیت سکتا تھا میرا پانامہ والا کیس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ والی جھوٹی کہانی گھڑی گئی، مجھے کیلبری فونٹ یا ٹرسٹ ڈیڈ پر سزا نہیں ہوئی تھی۔ یہ نواز شریف کی پراپرٹیز ثابت کرنے میں ایک بھی ثبوت یا کاغذ پیش نہیں کر سکے دادا کاروباری شخص تھے جن سے جائیداد براہ راست پوتوں اور پوتیوں کو منتقل ہوئی۔ انہوں دعوی کیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کا راستہ صاف ہو گیا

بریت کے بعد پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ نیب اب ان کے ماتحت ہے اس لئے نیب کے وکلا کیس نہیں لڑے۔ میرے مقدمے میں نیب پراسیکیوٹر تھے جو پہلے دن سے تھے ،لیکن میں نے اپنے وکیل کو کہا تھا کہ میں نیب کی ترامیم کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی کیونکہ مجھے نیب کے پرانے قانون کے تحت انصاف ملا لیکن فتنہ خان کی بے شرمی دیکھیں۔ آپ کی یہ ہمت کہ آپ اسے این آر او کہیں میں

اپنی بیمار والدہ کو چھوڑ کر سزا بھگتنے پاکستان آئی تھی۔ کیا یہ این آر او ہوتا ہے؟ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ جسٹس جاوید اقبال کو ان کی ویڈیو دکھا کر انہیں بلیک میل کرتے رہے اور ان سے اپنے مخالفین سے کیسز بنواتے رہے۔ اسحاق ڈار کو اس ملک سے جانا کیوں پڑا،

واپس آنا تو ان کا حق تھا ۔ ان کا وزیر خزانہ بننا عمران خان کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ بنی گالہ میں اجلاس میں کہا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد اب معیشت بہتر ہو گی تو انہیں اصل تکلیف ہوتی ہے،کوئی ان سے پوچھنے والا ہے کہ تم نے اپنے سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنائے کیوں؟ جھوٹ کو مٹنا ہوتا یے اور حق و سچ نے غالب آنا ہوتا ہے۔ آپ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن کو

مقدمات بنانے کا کہتے رہے ۔ طیبہ گل کو ڈیڑھ ماہ تک حبس بے جا میں رکھا اور اس کی ویڈیو سے جاوید اقبال کو بلیک میل کیا۔ منی گالہ کو ریگولرائز کرنے کے لئے تم نے جعلی دستاویزات دیں اور ثاقب نثار نے تمہیں صادق و آمین ڈیکلئر کر دیا ،اصل میں یہ این آر او تھا، جو تمہیں ثاقب نثار نے دیا تھا۔ تم نے فرح گوگی کے کیسز ختم کئے یہ این آر او ہے۔ تمہارے خلاف اتنے بڑے بڑے کیسز ہیں۔

یہ فارن فنڈنگ، توشہ خان میں مجرم ثابت ہوا۔ اس نے فرح گوگی کو راتوں رات فرار کروا دیا، علیمہ خان کو اس نے این آر او دیا ۔ تم نے کل کہا کہ خواتین کا خاص مقام ہوتا ہے، مریم خاتون نہ ہوتی تو جیل میں ہوتی۔ تو کیا میں خاتون نہیں تھی مجھے تم نے ہی جیل میں ڈالا تھا۔ میں تم پر ذاتی حملہ نہیں کرنا چاہتی لیکن سب جانتے ہیں۔ مریم نواز کو تم نے اڈیالہ جیل میں رکھا، 6 سال عدالتوں میں دھکے دلوائے، فتنہ خان جب تم پر وقت آتا ہے تو تم دیواریں پھلانگ کر بھاگ جاتے ہو، تم نے کبھی جیل کا منہ نہیں دیکھا۔ مجھے میرے باپ کے سامنے تم نے خود گرفتار کروایا، کیا میں تب خاتون نہیں تھی ۔ کیا خاتون وہی ہے جو ہیرے کے سیٹ لے کر بنی گالہ میں بیٹھی ہے۔ میں آپ بھی عورت کارڈ یا مظلومیت کا کارڈ نہیں کھیلتی۔ میں ظلم، برائی اور انتقام کیخلاف کھڑی ہوں۔ میں گرفتاری کے خوف سے تمہاری طرح ضمانت قبل از گرفتاری نہیں کرواتی۔

میں نے نیب کے پتھر کھائے، میری گاڑی پر فائرنگ تک کی گئی ۔ مجھ پر تم نے جلسوں میں گھٹیا جملے بازی کی۔ معزز جج کے بارے میں اس فتنہ خان نے للکارا تھا ۔ میں اطہر من اللہ کی عزت کرتی ہوں لیکن ادب سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس طرح کے شیطانی دماغ والے شخص سے فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ یہ شخص کرتا ہی ایسا ہے کہ جب پھنستا ہے تو معافی مانگ لیتا ہے۔ وہ جج زیبا سے اس لئے معافی مانگنے گیا تھا کہ وہ نااہل نہ ہو جائے۔ ایسے شخص کو معافی ملتی ہے تو آپ ملک میں کس چیز کو فروغ دے رہے ہیں۔

ایسا ہے تو پھر طلال چوہدری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کو بھی معافی ملنی چاہئے کیونکہ انہوں نے کچھ کیا نہیں ہے۔ اس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھ سے سائفر گم ہو چکا ہے ، وہ سائفر پاکستان کی امانت تھی ، ملکی تاریخ میں لاکھوں سائفر آئے ہوں گے، کیا کوئی ایک بھی غائب ہوا اسے سے پہلے ریاست کی دستاویز کو غائب کرنا بھی ایک الزام ہے جو فتنہ خان نے خود اعتراف کیا ہے ۔ اس سے بڑا جرم یہ ہے کہ

آپ نے جعل سازی کی اور منٹس تبدیل کئے اور اس پر سازش بنا دی۔ یہ ہوتا ہے کسی کھلنڈرے کو سیٹ پر بٹھانے کا انجام فارن آفس والوں کے مطابق آج ہمارے سفیر سائفر بھیجنے سے گریزاں ہیں آپ نے اس جعل سازی پر پارلیمنٹ توڑ دی اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ پھر اس پر اتنی ہمت کہ اداروں کو رکیک حملے کئے ٹیکسلا جلسے میں مریم نواز نے پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی تقاریر کے کلپس چلوائے۔

مریم نواز نے کہا کہ جس کا سارا کیریر ڈیل، خفیہ ملاقاتوں پر چلتا ہو تو وہ ایسی باتیں کر رہا ہے۔ کرسی اور اقتدار میں تھے تو جنرل باجوہ اور افواج ان کے لئے اچھے تھے کیونکہ وہ ان کو سپورٹ کرتے تھے اب نہ اقتدار رہا اور ملکی تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے نیوٹرل لفظ کو گالی بنا دیا کیونکہ آپ کی بیپیز بدلنے سے انکار ہو گیا اور آپ کی بیساکھیاں واپس لے لی گئیں۔ آپ کو مقبولیت کا زعم ہے تو نیوٹرلز سے دہائیاں کیوں کر رہے ہیں

کہ میری آنکھ کان بن جائیں جیسے 2018 میں بنے تھے۔ اس کو اقتدار میں واپس لے آئیں تو یہ ان کی تعریفیں شروع کر دے گا۔ جو شخص رات کو ایوان صدر میں خفیہ ملاقاتیں کرتا ہے اور این آر او مانگتا ہے۔ این آر او نہ ملنے پر دھمکیاں اور تنقید شروع کر دیتا ہے اور بدتمیزی شروع کر دیتے ہیں۔ وہ عوام کو کیا تعلیم دے رہا ہے کہ کیا تم چوکیدار کو نیوٹرل ہونے پر معاف کر دو گے؟

اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دہشت گردی کی جنگ میں آج بھی جوان اور افسر شہید ہو رہے ہیں، آپ انہیں تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، ایسا تو کوئی ملک کا بدترین دشمن بھی نہیں کرتا، ای سی پی نے اتنی بڑی چوری پکڑ لی، جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام نے چیزیں فارن فنڈنگ والی چھپا کر رکھیں جو سامنے آنی ہی تھیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے چوری پکڑ لی تو وہ برا ہو گیا۔

آپ کو وہ نیوٹرلز چاہیئے جو آپ کو اعتماد کا ووٹ لے کر دیں اور آپ کو کامیاب کروائیں۔ تمہارے جرائم پر پردے ڈالنے والے صحیح اور نیوٹرل ہونے والے غلط ،ٹیکسلا میں بدتمیزی کی گئی، سرحدوں پر کھڑے محافظوں تک یہ بات پہنچے گی تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔ اللہ کرے نواز شریف میرے ساتھ واپس آئیں۔ میرے ساتھ ہی نواز شریف کی بے گناہی ثابت ہو گئی ہے ہمارے کیسز میں پی ٹی آئی والے پہلی قطار میں بیٹھ کر

کیسز سن رہے ہوتے تھے ، نواز شریف کا راستہ اب صاف ہے بس عدالت میں ایک درخواست دینی ہے لیکن اس کی ٹائمنگ کا فیصلہ نواز شریف خود کرینگے ،مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توڑنے کی کوشش کرنے والوں کا شکریہ… ان کا سیاہ چہرہ سب سے دیکھ لیا میں کوئی لاڈلی نہیں ہوں۔

عمران خان کے ساتھ نحوست جڑی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ توہین عدالت کے مقدمے میں پکڑا جائے۔ اس پر بہت سنگین قسم کے الزامات اور ثبوت موجود ہیں کہ یہ دنیا کی کسی عدالت سے بچ نہیں سکتا ۔ سب کیسز کا باپ فارن فنڈنگ ہے۔ اس نے ڈالر پکڑ کر ملک کے ساتھ وہ کیا جو دشمن کرنا چاہتا تھا، توشہ خانہ کیس میں اس نے گھڑیاں بیچ کر پیسہ جیب میں ڈال لیا لیکن اس پر سیاسی بنیادوں پر کوئی مقدمہ نہیں بنا

لیکن اب قانون کے ہاتھ اس کے گریبان سے اب زیادہ دور نہیں۔ نواز شریف کہتے تھے کہ آپ فتنے کو لے کر آئے ہیں تو آپ سیاست چھوڑ کر اپنے آئینی کردار تک محدود ہو۔ یہ کہہ رہا ہے کہ افواج والے آپ آئین و قانون سے ہٹ کر میری بیساکھیاں بنیں۔ میری بہت بڑی جماعت ہے، ہمارے پاس ہر حلقے میں تین تین چار چار امیدوار ہیں۔ عوامی حکومت کبھی میڈیا کے اشتہارات بند نہیں کرتیں۔

ہم نے اے آر وائی کیخلاف کوئی مقدمہ نہیں بنایا حالانکہ بننے چاہئے، مریم نواز نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں اپنی وفاقی حکومت سے مطمئن نہیں ہوں۔ ملک کو خارجہ محاذ پر کوئی خطرہ نہیں بلکہ عدم استحکام سے خطرہ ہے۔ یہ عدم استحکام پیدا کرنے والے افراد کو سزا نہیں ملے گی، ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ عمران خان کو یہاں سے نکال دیں تو ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا۔ ہمیں حکومت میں رہ کر بھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی۔

نے گناہ نواز شریف ملک میں نہیں اور عمران خان ثبوتوں کے باوجود کھلا پھر رہا ہے ۔ پہلے زیرو پر آنا پڑے گا، جو نواز شریف نے بھگتا، وہ انہیں بھی بھگتنا ہو گا پھر لیول پلیئنگ فلیڈ ہو گی ۔ جب انصاف ہو گا تو عمران خان سیاست میں کہیں نظر نہیں آتا بلکہ جیل میں ہو گا اور ایسا ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور سمیت وفاقی ملازمین وفاق کے احکامات ماننے کے پابند ہیں،

کل کلاں انہیں جوابدہ ہونا ہو گا۔ اگر وہ وفاق کو جوابدہ نہیں ہو رہے تو ان سے زبردستی کرنی چاہیئے۔ عمران خان پہلے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر سے اترا ہی نہیں ، خیبر پختونخوا میں 10 سالوں کے دوراں قرضے 97 ارب سے بڑھ کر ساڑھے 7 سو ارب سے زائد ہو گئے ہیں کیونکہ عوام کا پیسہ عمران خان، سوشل میڈیا کے لوگوں پر خرچ ہوا۔ وہاں کے عوام کا حق اور ترقی تھی جو عمران خان کی جیب میں جا رہی ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ مجھے پاسپورٹ مل گیا ہے اور میں جلد لندن جا رہی ہوں۔ میری سرجری بھی ہونی ہے، پنجاب حکومت بھی جلد ختم ہو گی۔ اسحاق ڈار کی واپسی ان کے بیانئے کے منہ پر تھپڑ ہے۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں، ایسا مسلم لیگ ن نہیں کرتی۔ یہ بیانیہ یا جھوٹ ہے اور نوسربازی ہے جس کی زیادہ لائف نہیں ہوتی، میرا خیال ہے کہ جس نے ملک کو تباہ کرنے کے لئے فارن فنڈنگ لے لی ہو،

ایسے شخص کو اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ لشکر لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرے؟ ایسے شخص کو زندگی بھر جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔ اس کو سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اینٹ اٹھائو گے تو عمران خان کی کرپشن کے ثبوت ملیں گے اسی لئے وہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے یہ کچھ کر رہا ہے۔ اگر آئین و قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو نواز شریف تنقید کرینگے



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎