جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب، چوہدری شجاعت نے سپریم کورٹ میں بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 25  جولائی  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف)، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کردی۔یاد رہے کہ 22 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے

مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں ڈالے گئے 10 ووٹس مسترد کردئیے تھے۔انہوں نے رولنگ دی تھی کہ مذکورہ ووٹس پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈالے گئے، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے تھے تاہم مسلم لیگ (ق) کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیلنج کردیا گیا تھا۔جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو پیر تک بطور ٹرسٹی وزیراعلیٰ کام کرنے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے تاہم عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد جاری حکم نامے میں کہا تھا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیراعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔

تاہم سماعت کے آغاز سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پیپلز پارٹی نے مذکورہ کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی۔جے یو آئی (ف) نے اپنے وکیل کامران مرتضیٰ، پیپلزپارٹی نے فاروق ایچ نائیک اور چوہدری شجاعت نے وکیل صلاح الدین علی کے توسط سے درخواست دائر کی۔

جے یو آئی (ف) کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس موجودہ کیس میں ابہامات دور کرنے کے لیے فل کورٹ تشکیل دیں، آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس کا فیصلہ 3 رکنی بینچ اکیلے نہیں کر سکتا۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو طلب کر کے ان کے عہدے کی تضحیک کی۔

جمعیت علمائے اسلام ایک بڑی جماعت کے طور پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی، لہٰذا کیس میں فریق بنانے کی درخواست منظور کی جائے۔دوسری جانب متنازع انتخاب کے نتیجے میں وزیراعلیٰ پنجاب بننے والے حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ میں فل کورٹ بنانے کی درخواست دائر کردی۔

حمزہ شہباز نے اپنی درخواست میں آرٹیکل 63 اے کی نظر ثانی کی درخواستوں اور الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلوں بھی پر بھی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی۔درخواست میں استدعا کی گئی منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن کے منحرف اراکین سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف عمران خان کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کو تسلیم کیا، چوہدری شجاعت حسین کا اپنے ایم پی ایز کو لکھا گیا خط بھی آئین اور قانون کے مطابق درست ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، اپیلیں منظور ہوئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…