وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قوم کو خوشخبری سنا دی

  منگل‬‮ 28 جون‬‮ 2022  |  13:19

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ دس لاکھ افراد کو سستا پٹرول اسکیم پر رجسٹرڈ کرچکے، آئی ایم ایف نے ساتویں اور آٹھویں قسط کو ملا دیا، آئی ایم ایف نے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کا مسودہ فراہم کر دیا۔

نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق ٹرن اراؤنڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے مشکل فیصلے کرنا پڑے، وزیراعظم نے سخت معاشی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دیا۔ بعدازں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالر جلد مل جائیں گے، بہت جلد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے والا ہے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے، خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی اور معاشی آزادی کی ضمانت ہے، گزشتہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کو التوا کا شکار رکھا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت میں سارے فیصلے مل کر ہوتے ہیں، مشاورت اہم عمل ہے ذمہ داری سے نبھائیں گے، ہمیں دن رات معطون کیا جاتا مگر اس حمام میں سب ننگے ہیں، رونے دھونے سے کبھی بات بنی ہے نہ بنے گی، ہم بڑی آسانی سے پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈال دیتے ہیں، ہم 14 ماہ میں معاشی استحکام لائیں مگر اس کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کہ اگر نواز شریف نے قطر سے گیس نہ لی ہوتی تو بہت مشکلات ہوتیں، عالمی بحران کی وجہ سے ایل این جی نہیں مل رہی، جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ صاحب ثروت افراد پر ٹیکس لگایا ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ پن تک پہنچا دیا تھا، عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎