جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

نوید سے فون پر آخری رابطہ صبح چار بجے ہوا؟ مرحوم اہلکار کا کزن تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑا

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سانحہ مری میں اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑے او ر بتایا ہے کہ نوید نے شام 6 بجے کال کی ہم پھنس گئے ہیں،میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا، سی پی او ساجد کیانی کو نوید کی ریکارڈنگ بھیجی ،انہوںنے جواب نہیں دیا ،

بطور صحافی وزیراعظم عمران خان، عثمان بزدار، شیخ رشید اور فواد چوہدری کے ذاتی واٹس ایپ پر میسج کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا،سی پی او غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانیں بچ جاتیں۔نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے مری میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل نے بتایا کہ نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کیساتھ تھے، میں اس لیے بچ گیا کہ ہم لوکل ٹرانسپورٹ سے گئے اور نوید اپنی گاڑی سے گئے تھے، نوید نے شام 6 بجے کال کی کہ ہم پھنس گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہاں گاڑیاں 24 گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھیں، انتظامیہ نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا، نتھیا گلی میں 2 سے 4 ہزار گاڑیاں موجود تھیں، نوید سے میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا جس پر نوید نے سی پی او ساجد کیانی کا نمبر مانگا، میری ان سے بھی بات ہوئی، انہیں نوید کی ریکارڈنگ بھیجی مگر انہوں نے دیکھ کر کوئی جواب نہیں دیا۔طیب گوندل نے کہا کہ جی ٹی روڈ اور موٹروے نیچے سے کلیئر تھی مگر جہاں سے برفباری شروع ہوئی وہاں شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے کسی صورت واپسی ممکن نہیں تھی، ہمیں انتظامیہ نے کہیں آگے جانے سے نہیں روکا، اگر مجھے پتا چلتا تو نوید کو واپس بلا لیتا۔نوید اقبال کے کزن نے بتایا کہ میں نے ایس ایس پی ٹریفک سے بھی رابطہ کیا، سوشل میڈیا پر خبریں دیں، بطور صحافی وزیراعظم عمران خان،

عثمان بزدار، شیخ رشید اور فواد چوہدری کے ذاتی واٹس ایپ پر میسج کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا، صرف شیخ رشید نے پریس ریلیز جاری کی کہ اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ سی پی او غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانیں بچ جاتیں۔طیب گوندل نے کہا کہ انتظامیہ کو لائیو لوکیشن بھیجی تھی مگر کوئی مدد نہ آئی، مجھے انتظامیہ کی جانب سے لالی پاپ دیا گیا کہ آپ اطمینان کریں لیکن وہ ٹیم تعاون کرتی تو آج جانیں بچائی جاسکتی تھیں، تھوڑی

سے لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کرتے تو کسی کی جان بچ جاتی۔طیب گوندل نے زار و قطار روتے ہوئے بتایا کہ نوید اقبال دل کے مریض تھے، ان کے ساتھ بچے بھی تھے، نوید سے آخری بار رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ ہی مجھے نکال سکتے ہو، مجھے اگر پتا ہوتا حکومت اتنی نااہل ہے تو خود کچھ کرلیتا۔واضح رہے کہ مری میں سیرو تفریح کے لیے جانے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…