منگل‬‮ ، 30 جون‬‮ 2026 

نوید سے فون پر آخری رابطہ صبح چار بجے ہوا؟ مرحوم اہلکار کا کزن تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑا

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سانحہ مری میں اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑے او ر بتایا ہے کہ نوید نے شام 6 بجے کال کی ہم پھنس گئے ہیں،میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا، سی پی او ساجد کیانی کو نوید کی ریکارڈنگ بھیجی ،انہوںنے جواب نہیں دیا ،

بطور صحافی وزیراعظم عمران خان، عثمان بزدار، شیخ رشید اور فواد چوہدری کے ذاتی واٹس ایپ پر میسج کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا،سی پی او غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانیں بچ جاتیں۔نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے مری میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل نے بتایا کہ نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کیساتھ تھے، میں اس لیے بچ گیا کہ ہم لوکل ٹرانسپورٹ سے گئے اور نوید اپنی گاڑی سے گئے تھے، نوید نے شام 6 بجے کال کی کہ ہم پھنس گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہاں گاڑیاں 24 گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھیں، انتظامیہ نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا، نتھیا گلی میں 2 سے 4 ہزار گاڑیاں موجود تھیں، نوید سے میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا جس پر نوید نے سی پی او ساجد کیانی کا نمبر مانگا، میری ان سے بھی بات ہوئی، انہیں نوید کی ریکارڈنگ بھیجی مگر انہوں نے دیکھ کر کوئی جواب نہیں دیا۔طیب گوندل نے کہا کہ جی ٹی روڈ اور موٹروے نیچے سے کلیئر تھی مگر جہاں سے برفباری شروع ہوئی وہاں شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے کسی صورت واپسی ممکن نہیں تھی، ہمیں انتظامیہ نے کہیں آگے جانے سے نہیں روکا، اگر مجھے پتا چلتا تو نوید کو واپس بلا لیتا۔نوید اقبال کے کزن نے بتایا کہ میں نے ایس ایس پی ٹریفک سے بھی رابطہ کیا، سوشل میڈیا پر خبریں دیں، بطور صحافی وزیراعظم عمران خان،

عثمان بزدار، شیخ رشید اور فواد چوہدری کے ذاتی واٹس ایپ پر میسج کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا، صرف شیخ رشید نے پریس ریلیز جاری کی کہ اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ سی پی او غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانیں بچ جاتیں۔طیب گوندل نے کہا کہ انتظامیہ کو لائیو لوکیشن بھیجی تھی مگر کوئی مدد نہ آئی، مجھے انتظامیہ کی جانب سے لالی پاپ دیا گیا کہ آپ اطمینان کریں لیکن وہ ٹیم تعاون کرتی تو آج جانیں بچائی جاسکتی تھیں، تھوڑی

سے لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کرتے تو کسی کی جان بچ جاتی۔طیب گوندل نے زار و قطار روتے ہوئے بتایا کہ نوید اقبال دل کے مریض تھے، ان کے ساتھ بچے بھی تھے، نوید سے آخری بار رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ ہی مجھے نکال سکتے ہو، مجھے اگر پتا ہوتا حکومت اتنی نااہل ہے تو خود کچھ کرلیتا۔واضح رہے کہ مری میں سیرو تفریح کے لیے جانے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…