چار حکومتوں کے ڈاکو جان بچانے کے لیے کابینہ میں بیٹھے ہیں، شاہد خاقان عباسی کے انٹرویو میں انکشافات

17  دسمبر‬‮  2021

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گزشتہ چار حکومتوں کے ڈاکو اپنی جان بچانے کے لیے کابینہ میں بیٹھے ہوئے ہیں،ہم نے پانچ سال حکومت کی ہے، ہر چیز کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،حکومت اور مہنگائی کے خلاف اپوزیشن متحد ہے۔ایک انٹرویومیں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہارنے والے طرح طرح کے بیانات دیتے ہیں،

خانیوال میں ووٹ پارٹی کا تھا اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر آئینی مداخلت ہوتی ہے تو مسئلہ ہوتا ہے، ڈسکہ الیکشن کی رپورٹ سب کے سامنے ہے، پارٹی فیصلے کرتی ہے کہ کون کہاں کس جلسے میں جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں وزیراعظم کے امیدوار سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم کے امیدوا ر کا فیصلہ بھی پارٹی صدر کی مشاورت سے ہوگا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم کسی پلان کا حصہ نہیں ہیں ملک میں آئین چاہتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں۔ن لیگ کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ حکومت کا ہر لمحہ ملک پر بھاری ہے، حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، پی ڈی ایم کی تحریک کا مقصد نظام کو آئین کے مطابق کرنا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت و پارلیمنٹ کچھ بھی مؤثرنہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کے تحت پارلیمنٹ کو غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفوں کے حق میں ہوں لیکن بڑی خرابی نہیں پیدا کرنا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کو دیکھنا ہے تو ٹروتھ کمیشن بنا دیں، مسلم لیگ ن کبھی ڈیل کرکے اقتدار میں نہیں آئی، جو مجھ پر الزام لگاتا ہے وہ اپنے گریبان میں دیکھ لے، چور کابینہ کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

ن لیگی رہنما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جسے عوام قبول کرے وہی سیاست میں آتا ہے، ایف آئی اے حکومت کے کنٹرول میں ہے، فرنس آئل کی وجہ سے ریفائنریز بند ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی امپورٹ نہیں کی بلکہ فرنس آئل امپورٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنس اائل سے مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے لیکن نیب اور

ایف آئی اے خاموش بیٹھی ہوئی ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب سے متعلق سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ چیئرمین نیب کو فیصلے پڑھنے چاہئیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ چینی کی قیمت 150روپے تک گئی تو کس کی ذمہ داری تھی؟ن لیگی رہنما نے کہا کہ غیر آئینی نظام کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ادارے آئین کے مطابق نہیں چل رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟


عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…