سپریم کورٹ نے شوگر ملز کو کتنے روپے پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت دیدی ؟بڑی خبر

12  اگست‬‮  2021

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت مقرر کرنے سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت کے موقع پر شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دیدی ، کیس لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کو درخواستوں پر 15 دن میں فیصلے کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت عظمیٰ میں حکومتی اپیل پر

سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ کیا حکومت کے پاس چینی کی قیمت مقرر کرنے کا مکمل اختیار ہے؟ چینی کی قیمت کا تعین ایک فارمولا کے تحت ہوتا ہے،شوگر ملز کا موقف ہے کہ حکومت نے 104 روپے پر چینی امپورٹ کی،امپورٹ کی گئی چینی حکومت سبسڈی دیکر 89 روپے میں فروخت کرے گی،یہ بات درست ہے یا غلط، عدالت نے اپنے اختیارات کو دیکھنا ہے،عدالت نفع نقصان اور قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتی،عدالت کے پاس قیمتوں میں تعین جیسے معاملے میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہیں،لاہور ہائی کورٹ کا عبوری حکم ختم کرکے کیس ریمانڈ کرینگے،مناسب ہوگا کہ قیمتوں میں فرق کی رقم کسی ٹرسٹی کے پاس رہے،کیس کا فیصلہ ہونے تک رقم ٹرسٹی کے پاس رہے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ایک موقع پر سوال اٹھایا کہ حکم امتناع ختم ہونے سے ملز کا نقصان ہوا تو کیا ریاست ازالہ کرے گی؟وکیل شوگر ملز مالکان نے

موقف اپنایا کہ عبوری حکم ختم کیا گیا تو اس کا نقصان ہوگا،عبوری حکم ختم ہوا تو سارسٹاک اٹھا لیا جائے گا،قیمتوں میں فرق پر مبنی رقم ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو جمع کرائیں گے۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کا ایکس مل ریٹ 84 اور شوگر مل مالکان کا 97 ہے،حکومت نے چینی کی ایکس مل قیمت مقرر کی تھی،

لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی ایکس مل قیمت پر حکم امتناع جاری کیا،قیمت مقرر کرنے کا اختیار حکومت کا ہے،حکومت عوام کے حقوق کی محافظ ہے،عبوری حکم ختم نہ ہوا تو مل مالکان مہنگی چینی فروخت کرینگے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں چینی کی قیمت کا کیس زیرالتواء ہے،ہائی کورٹ نے حکومت کی

مقررہ قیمت کیخلاف یکطرفہ حکم امتناع جاری کیا،عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانونی نقطے پر فیصلہ کرے،قیمتوں، نفع نقصان کا تعین کرنا عدلیہ کی ذمہ داری نہیں ہے،ہائی کورٹس کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت غیر متعلقہ حدود میں داخلے کے مترادف ہے،عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،شوگر ملز کی طرف سے صرف مچلکے

جمع کرانا کافی نہیں،متعلقہ کین کمشنر چینی کے سٹاک اور فروخت کا ریکارڈ مرتب رکھیں،شوگر ملز ایکس مل ریٹ میں فرق پر مبنی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کرائیں گی،حکومت اور شوگر ملز مالکان کی مقرر کردہ ریٹ میں فرق پر مبنی رقم ہائی کورٹ میں جمع ہوگی،عدالت عظمیٰ نے شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دیتے ہوئیکیس لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔

موضوعات:



کالم



ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟


عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…