فوج اگر نیوٹرل نہ ہوتی تو عمران خان کو ضمنی انتخابات میں اتنی فتوحات نہ ملتیں، فوج سے متعلق نازیبا زبان استعمال کی تو برداشت نہیں کروں گا ، فیصل واوڈا

  منگل‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  22:50

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )فوج اگر نیوٹرل نہ ہوتی تو عمران خان کو ضمنی انتخابات میں اتنی فتوحات نہ ملتیں، فوج سے متعلق نازیبا زبان استعمال کی تو برداشت نہیں کروں گا ، فیصل واوڈا کا بیان ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی نہیں ٹوٹے گی،

موجودہ نظام ایسے ہی چلے گا۔نجی ٹی وی سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی نہیں ٹوٹی تو کےپی اسمبلی ٹوٹنے کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ وقت پر انتخابات کا عمران خان کو فائدہ ہی ہوگا، سسٹم کے اندر رہ کر لڑائی اچھے طریقے سے لڑی جاسکتی ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ استعفے دینے سے بھی کام نہیں ہوگا، کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کیساتھ گھر کا تعلق ہے جبکہ مونس الہیٰ سے دوستی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی خواہش ٹھیک ہے،انتخابات ضرورہونے چاہئیں مگر ، سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ رمضان کے بعد انتخابات کا امکان تھا، اگرمذاکرات ہوں تو ابھی ہوسکتے ہیں۔فیصل واوڈا نے کہا کہ فوج نیوٹرل نہ ہوتی تو عمران خان اس طرح سوئپ نہیں کرتے، عمران خان نیک نیت آدمی تھے،انہیں منافقوں نے گھیرلیا، عمران خان صفائی نہیں کریںگے تو 26 سال کی محنت ضائع کردینگے۔فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہہ جنرل عاصم منیرکو جانتا ہوں۔ وہ ایک ایماندار آدمی ہیں، ہماری حکومت میں انھیں بطور ڈی جی آئی ایس آئی نیک نیتی اور ایمانداری سے کام کرنے پر ہٹا دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ



زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎