عمران خان کی جیب کی تلاشی میں آٹھ سال لگے ہیں مرکزی رہنما طلال چوہدری

  بدھ‬‮ 3 اگست‬‮ 2022  |  17:15

مکوآنہ (این این آئی ) فیصل آباد سے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان پر جرم ثابت ہو چکا ہے، اب سزا باقی ہے، جرم کے تحت ان کی تاحیات نااہلی، عمر قید اور فنڈز کی ضبطگی کی سزاعمل میں لائی جا سکتی ہے، خان صاحب کی جیب سے بھارتی اسرائیلی فنڈنگ کے ثبوت برآمد ہو چکے ہیں، محمد نوازشریف تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل ہوئے اسی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے لاڈلے کوبھی سزا دی جائے،

آج خوشی کا نہیں بلکہ نظام انصاف کیلئے ماتم کا دن ہے کہ آٹھ سال تک انصاف کا نظام کہاں سویا رہا، فارن فنڈنگ کیس فیصلے کی روشنی میں 2013اور2018 کے الیکشن پر سوال اٹھ چکے ہیں ،ممنوعہ فنڈنگ سے پاکستان میں انتشار، دھرنوں اورسی پیک کو روکنے کی سازش کی گئی،عوامی مقبولیت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی قانون کو پائوں تلے روند کر من مانی کرے ،وقت آ گیا سب کے ساتھ برابر کا سلوک کیاجائے۔وہ فیصل آباد میں این این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر کہوں گا کہ یہ خوشی کا دن نہیں بلکہ ماتم کا دن ہے،آٹھ سال انصاف کا نظام کہاں سویا ہوا تھا ،ایک شخص جلسے اور عیاشیاں کرتا رہا ،کئی ملین ڈالرز سے پاکستان میں کھیل کھیلتا رہا ،اب تو گزشتہ دو عام انتخابات پر بھی سوال اٹھ چکا ہے ،اسی فنڈنگ سے سی پیک کو روکا گیا ،دوسروں کیلئے روز سماعت و تاریخ ہوتی ہے لیکن خان صاحب کے فیصلے پر آٹھ سال لگ گئے،پی ٹی آئی کے لوگ کہتے ہیں ممنوعہ فنڈنگ ہے ، یہ کہنا چاہتے ہیں یہ اندھا نہیں نابینا ہے، آپ جھوٹے اور مکار ثابت ہوئے ہیں ،یہ بار بار کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن سب ویب سائٹ پر ڈالے تو آپ نے دیا ہی کچھ نہیں تو ویب سائٹ پر کیا ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ خان صاحب تلاشی نہیں دیتے رہے کیونکہ ایک جیب میں اسرائیلی دوسری میں بھارتی پیسہ تھا، عمران خان کی جیب کی تلاشی میں آٹھ سال لگے ہیں ،خان صاحب کے اکائونٹ میں ملین ڈالر آتے رہے لیکن انہیں پتہ ہی نہیں تھا، ہزار دو ہزار روپے نہیں 13اکائونٹس چھپائے گئے، محمدنوازشریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اور نااہل ہوگئے ، عمران خان کی تلاشی سے 13اکائونٹس نکلے ہیں

،فارن فنڈنگ کے پیسے سے دھرنا اور علیمہ کے فلیٹ سے گھر تک چلتے رہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ایک سماعت میں یہ کیس اڑ جائے گا،خان صاحب ! فارن فنڈنگ کسی مسجد کے اکائونٹ کا کیس نہیں ، آپ کے اکائونٹس میں ایک ہزار نہیں کئی ملین ڈالرز آئے ہیں، آپ کا جرم ثابت ہو چکا ہے صرف سزا کا تعین باقی ہے ،عمران خان کی تاحیات نااہلی ، عمر قید یا اس سے زائد سزا ہونی ہے ،

ہمیں دن سے رات کیلئے کوئی حکم امتناع نہیں دیتا ،محمدنوازشریف کی اہلیہ فوت ہونے کے قریب تھیں لیکن چار روز انتظار نہیں کیا گیا اورفیصلہ سنا دیا گیا،آپ کے ساتھ ”لاڈلوں ”والا سلوک ہوگا آپ کی زبان اب نہیں چلے گی ،جو کام کیا اب بھگتیں گے، کوئی مقبول ہو جائے تو کیا اسے ہر کھلواڑ معاف ہے،آپ سول نافرمانی کی بات کریں تو معافی ،ہنڈی حوالہ سے پیسے بھیجنے کی ترغیب دیں،سی پیک روکیں تو معافی ،ہم امریکی عدالت کے فیصلے کو باسٹھ تریسٹھ کیلئے سامنے لے کر آئیں گے،

عمران خان صادق و امین نہیں اس نے خود پر خول چڑھایا ہواہے ، اس نے جو جرم کر لیا اس کی سزا کا تعین ہونا چاہیے اب آٹھ سال نہیں لگنے چاہئیں ، امپورٹڈ مداخلت خان صاحب کی جیب میں فنڈز ڈال کر ریاست کے خلاف مداخلت کی گئی،پی ٹی آئی والوں کو بات سمجھ آ گئی ہے ،نااہلی میں چند ہفتے نہیں لگنے چاہئیں، وفاقی حکومت کو جو ہدایات آئیں گی اس پر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار صاحب کا بھی کردار ہے جو ان کا کیس واپس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا تھا کیونکہ کرپشن ثابت ہو چکی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک ہوتا رہا، محمدشہبازشریف اور حمزہ شہباز وزیر اعظم اور وزیر اعلی بن کر سب سے زیادہ عدالتوں میں جاتے رہے ،

پنکی پیرنی ہو یا فرح گوگی کسی کیس میں بھی عمران خان کو نہیں بلایا گیا، عمران خان کا بہت سا پیسہ ہنڈی سے آیا جس سے علیمہ باجی نے فلیٹ بھی لیے ،عمران خان نے پاکستانیوں کو ورغلاکر اور پاکستان کے دشمنوں سے بھی پیسہ لیا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کا مستقبل اندھیر ہے ،

جیل پکی ہے تاحیات نااہلی بھی ہوگی، عمران خان لکھ کر دیدیں کہ جیل میں کون کون سی دوائی دینی ہے وہ بھی فراہم کریں گے۔طلا ل چوہدری نے کوئٹہ میں ریلیف سرگرمیوں میں مصرو ف ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے ان شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کیلئے قربانی دی اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎