جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

دبئی میں پاکستانیوں کی 21کھرب روپے کی جائیدادوں کا انکشاف

datetime 20  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )دبئی میں پاکستانیوں کی 21کھرب روپے کی جائیدادوں کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ تفصیلات کےمطابق پاکستان کی کمزور ،لڑکھڑاتی معشیت کو لاحق خطرات اپنی جگہ اور درآمدات پروزیراعظم شہبازشریف کی لگائی جانیوالی پابندیاں اپنی جگہ لیکن دبئی میں جائیداد بنانے کا شوق پاکستانی اشرافیہ  میں جڑ پکڑ چکا ہے ، دیوالیہ قرار دئیے جانے کے قریب قریب پاکستان کے

شہریوں کی دبئی میں  38 ہزار جائدادیں ہیں جن کی مجموعی مالیت 10.6  ارب ڈالر (  2.078 کھرب پاکسستانی روپے)  ہے۔نجی ٹی وی فورٹی ٹو کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اسٹاک ایکسچینج  شروع سے ہی غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ڈراؤنا خواب بنا رہا ہے لیکن حال ہی میں’ دبئی کا اصل مالک کون‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ریسرچ پیپر جو کہ مصنفین اینی الیسڈیٹر ، گیبرئل زیک مین اور ایینڈریاس آکلینڈ   یورپی یونین  ٹیکس معشیت دانوں کی جانب سے لکھا گیا ہے دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔ ریسرچ پیپر میں کہا گیا ہے کہ دبئی کی نصف سے زائد جائیدادوں کے مالک  مقامی عرب باشندے نہیں بلکہ بھارت، برطانیہ ، پاکستان ، سعودی عرب  اور ایران کے شہری ہیں ۔ اس کے بعد کینیڈا، روس اور امریکا کے شہری بھی عرب امارات کے دل دبئی میں جائیداد کے مالک ہیں۔ اس مقالے میں دبئی میں تقریباً 8 لاکھ جائیدادوں کا تجزیہ کیا گیا اور کئی دلچسپ  امر سامنے آئے ہیں ۔  دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں کم از کم 146 بلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ 2020 میں کئے گئے سروے کے مطابق دبئی میں جائیدادوں کی کل مارکیٹ ویلیو 533 بلین امریکی ڈالر ہے، جس میں سے تقریباً 27 فیصد غیر ملکی افراد کی  ملکیت ہیں۔ ریسریچ کے مطابق تقریباً 20 فیصد رئیل اسٹیٹ  بھارتی  سرمایہ کاروں اور 10 فیصد برطانوی  سرمایہ کاروں( یہ برطانوی سرمایہ کار بھی زیادہ تر بھارتی نژاد ہیں) کی ملکیت ہے۔  زیادہ تر جائیدادوں کے مالک متعدد تنازعات کا شکار ممالک اور  ان میں برسر اقتدار آمر ہیں جن کی جائدادوں کی مالیت ان ممالک کی معشیت کے حجم کے برابر ہے۔   دبئی میں سب سے زیادہ جائیدادیں(35 ہزار) بھارتی شہریوں کی ہیں جس کی مالیت 30 ارب ڈالر ہے  یہ کل آف شور دبئی رئیل اسٹیٹ کا 20 فیصد ہے دوسرے نمبر پر(23 ہزار )  برطانوی شہریوں کا نمبر ہے جس کی مالیت 15 بلین ڈالر ہے کل آف شور دبئی رئیل اسٹیٹ کا 10 فیصد ہے  جبکہ اس کے بعد  پاکستان، سعودی عرب، ایران، اردن، اور روس کے شہریوں کانمبر ہے ۔ مشرق وسطیٰ،  یورپ اور وسطی ایشیا کے جائیداد مالکان بھی دبئی کی معشیت کے حصہ دار ہیں۔ دبئی آف شوررئیل اسٹیٹ میں  سرمایہ کاری کے حوالے سے جغرافیائی قربت اور تاریخی تعلقات اہم عوامل ہیں ۔ دبئی کی مہنگی ترین علاقوں میں سب سے زیادہ جائیدادیں روسی شہریوں کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…