جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

انصاف کی تیز تر فراہمی کی جانب اہم قدم سپریم کورٹ میں زبردست سہولت فراہم

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آئی این پی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں کیس رجسٹریشن ڈیسک کا افتتاح کر دیا، تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے پرنسپل سیٹ میں کیس

رجسٹریشن ڈیسک کا افتتاح کیا، اس موقع پر شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمدنے سپریم کورٹ کو ڈیجیٹل بنانے کیلئے عدالت عظمی کے معزز جج مشیر عالم کی سربراہی میں قائم آئی ٹی کمیٹی کے کردار کو سراہا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیس رجسٹریشن ڈیسک کی سہولت سے عوام کو انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی، پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں قائم رجسٹریشن ڈیسک وکلا اور سائلین کو ضروری ڈیٹا فراہم کرے گا، رجسٹریشن ڈیسک پر ڈائری نمبرز، انگوٹھوں کے نشانات اور شناختی کارڈ کی تصدیق سمیت دیگر اہم معلومات بھی میسر ہونگی،پرنسپل سیٹ اسلام آباد کے علاوہ عدالت عظمی کی دیگر برانچ رجسٹریز میں بھی جلد کیس رجسٹریشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر جسٹس مشیر عالم نے سپریم کورٹ کو ڈیجیٹائز کرنے سے بارے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس رجسٹریشن ڈیسک کی سہولت سے غیر قانونی مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…