اورنج لائن اسٹیشن کے عملے نے ہاتھ سینکنے کیلئے جلائی گئی آگ سے دھواں اٹھنے پر پانچ مزدوروں کی پھینٹی لگا دی، مزدوروں کو مرغا بنا کر ڈنڈے برسانے کا انسانیت سوز واقعہ

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  19:40

لاہور (این این آئی) اورنج لائن اسٹیشن کے عملے نے ہاتھ سینکنے کے لئے جلائی گئی آگ سے دھواں اٹھنے پر پانچ مزدوروں کو بدترین تشدد کانشانہ بنا ڈالا ، مزدوروں کو مرغا بنا کر ڈنڈے برسائے گئے جس سے ایک مزدور کی حالت غیر ہوگئی ، سی سی پی او لاہور غلا م محمود ڈوگر نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔بتایاگیا ہے کہ اورنج لائن اعوان ٹائون اسٹیشن کے عملے نے ہاتھ سینکنے کے لئے جلائی گئی آگ سے دھواں اٹھنے پر پانچ مزدوروں کو بدترین تشدد کانشانہ بنا ڈالا ۔ عملے نے مزدروں کو


مرغا بنا کر ڈنڈے بھی برسائے جس سے ایک مزدور کی حالت غیر ہوگئی جس کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال منتقل کردیاگیا ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اورمزدوروں کو عملے سے بازیاب کرواکے عملہ کے قبضے سے ڈنڈے برآمد کرکے 06ملازمین کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیاجس میں ایک خاتو ن بھی شامل ہے ۔تشدد کرنے والوں میں فرمان، تنزیل، جاوید، عامر اور وقاص شامل ہیں۔ایس پی اقبال ٹائون کا کہنا ہے کہ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزدوروں نے اپنے بیان میں کہاکہ سردی سے بچنے کیلئے آگ جلائی، دھوں اٹھنے سے اورنج لائن اہلکاروں نے تشدد کیا۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے مزدوروں پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔ سی سی پی او کا کہنا ہے کہ ملزمان کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے مزدوروں کو انصاف دلایا جائے گا،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیںدینگے ،رٹ آف دی اسٹیٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے عملے کی جانب سے مزدوروںسے  افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دریں اثنا پولیس نے تشدد کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎