اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

اگر یہ کام ہوا تو عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی،ایسا نہیں ہونے دیں گے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سول جج ساہیوال اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازعہ سے متعلق کیس میں چیئرمین پیمرا، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ حکومتیں چاہتی ہیں کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو،اگر ایسا ہوا تو

عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی اورہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سول جج اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازعے سے متعلق مقامی وکیل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد آصف بھٹی نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر افسران کی جانب سے جواب جمع کروایا تاہم فاضل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو، جس دن ایسا ہوگیا کہ تو عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی، ہم جو یہاں بیٹھے ہیں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ سرکاری وکیل آصف بھٹی نے جواب دیا افسران نے سول جج کے معاملے پر ہڑتال نہیں کی۔چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر میڈیامیں جو ہڑتال کی خبریں چلیں وہ کون لوگ تھے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ نادرا سے تصدیق کرکے رپورٹ دیں کہ احتجاج کرنے والے کون تھے اور بینرز اٹھانے والے ملازمین کی تصویریں پیش کی جائیں۔چیف جسٹس نے کہا عدلیہ کے بارے میں جو فقرہ لکھا گیا ہے کیا وہ درست ہے؟،کیا جواب میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کیا وہ توہین عدالت کے زمرے میں

نہیں آتے؟۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ مشکل سا لفظ انہوں نے لکھ دیا کہ جج صاحب کو کون سا پتہ چلنا ہے،ان الفاظ کے کا معنی گھوڑے اور گاڑی کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مطلب انتظامیہ گھوڑا اور گاڑی اس کے پیچھے چلے، کیا یہ فقرہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا؟۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جو چینلز پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں ان کو اس قانون پتہ ہی نہیں ہوتا، تبصرہ کرنے والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا اس نقطے پر اعلی عدلیہ کے فیصلے کون سے آئے ہیں۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو سیاسی لیڈر چاہتا ہے وہ انٹرویوز میں عدلیہ کے بارے میں جو چاہے کہہ دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…