چینی بحران پر وزیراعظم کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے پْر اسرار کردار پر مکمل خاموش ہے، ن لیگ نے ساری ذمہ داری وزیراعظم پر ڈال دی

  پیر‬‮ 6 اپریل‬‮ 2020  |  23:12

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنمااور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے پْر اسرار کردار پر مکمل خاموش ہے، پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے 2019ء میں چینی کی برآمد پرشوگر ملوں کو 5روپے کلو سبسڈی دی ایسی فیاضی نہ سندھ نے کی نہ خیبرپختونخوا حکومت نے کی،چینی کی ایکسپورٹ کھلنے سے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہوئیجس سے ترین گروپ نے مزید 20ارب روپے اور رحیم یار خان گروپ نے اضافی 15ارب روپے کمائے۔چینی بحران پر حقائق عوام کے سامنے


رکھنا ضروری ہیں، رپورٹ پریس نے جاری کی حکومت نے نہیں کی، قیمت میں اضافے کا کون ذمہ دار ہے اسکا پتا چلانا ضروری ہے، عوام کو اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ جو چینی 2018ء میں 55روپے کلو تھی وہ 40فیصد مہنگی کیوں ہوگئی؟ ،کابینہ کا سربراہ وزیراعظم اور ای سی سی کا سربراہ وزیر خزانہ ہے،کابینہ کے فیصلے کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے، وزیراعظم ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتے۔ پیر کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چینی بحران رپورٹ میڈیا پر لیک ہوئی ،چینی بحران رپورٹ حکومت نے جاری نہیں کی، قوم کے سامنے حقائق لانا ضروری ہے لوگ پوچھ رہے ہیں چینی میں 40فیصد اضافہ کیسے ہوا؟،چینی ایکسپورٹ کی اجازت کس نے دی؟معلوم کریں گے،رمضان میں چینی کی قیمت میں 100روپے اضافہ ہونے کاخدشہ ہے،ن لیگ کے دور میں چینی پر سبسڈی دی گئی جو وقت کی ضرورت تھی،2018میں چینی55روپیفی کلوفروخت ہورہی تھی،فروری2020میں80روپے فی کلوپرچینی چلی گئی،3ارب کی سبسڈی صرف پنجاب میں دی گئی، حکومت نے چینی پر جو سبسڈی دی اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں ہوا،آج جوعوام کیوسائل پرڈاکہ ڈالاگیااس کی وجوہات کچھ اورہیں،شواہد، دستاویزات اور ریکارڈ بتاتا ہے کہ وزیراعظم کرپٹ بھی ہے اور نالائق بھی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ چینی کی ڈکیتی کابینہ اور ای سی سی کے فیصلوں کی وجہ سے ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ کا سربراہ وزیراعظم اور ای سی سی کا سربراہ وزیر خزانہ ہے،کابینہ کے فیصلے کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے، وزیراعظم ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتے۔ انہوںنے کہاکہ مافیا کا سربراہ تو وزیراعظم خود ہے، وزیراعظم کو ذمہ داری قبول کرنی پڑے گی،جس شخص نے رپورٹ لکھی اور اس کے دو ساتھی ارکان ہی کمشن میں بھی شامل ہیں،رپورٹ لکھنے والا اور ارکان وہی ہیں تو کمشن سے کیا حاصل ہوگا؟ ۔ انہوںنے کہاکہ ملی بھگت سے عوام پر 100 ارب کا ڈاکہ ڈالنے والی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ فارنزک آڈٹ کی ضرورت نہیں، مال تو حکومتی پالیسی میں گڑ بڑ کرکے کمایا گیا،کمشن 100 ارب کا ڈاکہ ڈالنے والوں کو بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہم نے نیب کی تحویل میں 70دن گزارے، یہ 7 گھنٹے گزار لیں،وزیرجب حکومتی پالیسی کوکرپشن کرنے کے لئے توڑیں مروڑیں گے تو ان کے نام بھی لیں گے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومتی کرپشن یہاں ختم نہیں ہوئی، پورٹ اینڈشپنگ، پٹرولیم، توانائی، خزانہ کی وزارتوں میں کیا ہورہا ہے، سارا پاکستان جانتا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پاکستان اس کرپشن کا متحمل نہیں ، آنے والا وقت خوفناک اور غیر معمولی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جو حکومت چینی مینیج نہ کرسکے، وہ ملک کو ڈائریکشن نہیں دے سکتی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ نوازشریف اور شہبازشریف کا اس ایکسپورٹ سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی انہوں نے کوئی فائدہ اٹھایا۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف، شہبازشریف کی کل 3ملیں ہیں، چوہدری شوگر مل تین سال سے بند ہے،رمضان شوگر مل اور العریبیہ نے موجودہ حکومت کے دوران کوئی سبسڈی نہیں لی۔


موضوعات: