عوام سے گھروں اور مساجد میں آیت کریمہ کا ورد اور درود تنجینا کی تلاوت کے ساتھ ساتھ استغفار کی اپیل، علماء مشائخ نے جمعہ کو یوم استغفار کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا، حکومت کو بھی اہم پیغام

  جمعرات‬‮ 26 مارچ‬‮ 2020  |  21:37

کراچی(این این آئی) عالمی وبا کرونا ء سے بچاو اور نجات کے لئے علماء مشائخ کا جمعہ کو یوم استغفار کے طور پر منانے کا اعلان عوام سے گھروں اور مساجد میں آیت کریمہ کا ورد اور درود تنجینا کی تلاوت کے ساتھ ساتھ استغفار کی اپیل، مساجد کی بندش اور عبادات پر پابندی سے گریز کیاجائے، قوم عالمی وبا کرونا سے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے انشائاللہ آزمائش کی موجودہ گھری میں قوم تو بہ استغفار کے ذریعے کرونا کو مات دینے میں کامیاب ہوگی،ان الفاظ اور اعلان کا اعادہ علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے ویڈیو لنک


پر منعقدہ خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی چیئرمین پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی،اجلاس میں مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین حسینی جانی شاہ، بی بی سیدہ حاجرہ حقانی چیئرپرسن شعبہ خواتین، علامہ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین نوری، خطیب اہلبیت علامہ محسن کاظم، علامہ ڈاکٹر مہربان مجددی نقشبندی (ایڈوکیٹ)،علامہ پروفیسرضیاالدین، علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید، پیر مفتی محمد فیض قادری، علامہ ڈاکٹر محمود عالم عاصی،مرشد احمد سفیان گورایا ایڈوکیٹ، ایس مسرور ہاشمی،علامہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ ضیاء الدین،،ڈاکٹر فیاض شاہین، سید معین شاہ،حاجی جمیل،فیصل کھرل،ندیم شہزاد،مصور اقبال،احمد مہران گورایا ایڈوکیٹ،عامر ضیاء اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں عالمی وبا ء کرو نا ء کی وجہ سے ملک بھر میں پریشان کن صورتحال خصوصا مساجد کے متعلق مثصر کے علما کے فتوی حکومتی اور انتظامی سطح پر جاری کردہ احکامات پر غور کیا گیا بعد ازاں قرآن و سنت کی روشنی میں متفقہ رائے سے طے پایا کہ عالمی وبا کو روناء سے تحفظ کیلئے عوام میں احتیاطی تدابیر کے شعور کی آگہی کے لیے حکومت و انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا نیز جمعۃ المبارک سمیت پنجگانہ نمازوں کو متعلق مساجد کی بندش اور نماز باجماعت کو معطل کرنے کے اقدامات سے گریز کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مساجد اور خانقاہیں امن و سلامتی شفاء اور اللہ کو راضی کرنے کے مدارج ہیں اگر یہ مراکز بھی بند کر دیے گیا تو قوم امن و سلامتی والی جگہوں سے محروم ہو جائیں گےاجلاس میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج مبلغ 3000 روپے کو عوام پر مذاق قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت کا مزدوروں کیلئے اعلان کردہ ماہانہ امداد تین ہزار روپے بہت کم ہے اسے کم از کم نو ہزار کیا جائے،جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا بھر میں تیس فیصد تک گرگئی ہیں مگر وزیر اعظم نے صرف 15روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے جو ناکافی ہے،تین ماہ کے لیے پٹرول سمیت پانی بجلی گیس پر ہر طرح کے ٹیکس،ڈیوٹی اور سرچارجز وغیرہ ختم کر دیے جائیں۔انھوں نے کہا اس وقت سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر ملک و قوم کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔حکومت تنہا اتنی بڑی مصیبت سے نہیں لڑ سکتی،قوم کے ہر فرد کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ اس وقت پوری قوم کو متحد ہوکر کورونا وبا سے لڑنے کی ضرورت ہے،حکومت اور ریاست کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے،حکومت عوام کو کورونا سے بچانے کیلئے جو بھی اقدامات کررہی ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کیلئے ہر طرح کا تعاون دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی و دینی جماعتیں اور فلاحی ادارے بیماری کے خلاف لڑنے اور اسے شکست دینے کیلئے کمربستہ ہوجائیں تو ہم بہت جلد اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انھوں نے کہا علماء مشائخ فیڈریشن کے ہزاروں کارکنا ن اول روز سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اور بغیر کسی نمود نمائش عوام کو احتیاطی تدبیر کے حوالے سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ہمارے کارکنان عوام میں ماسک،سینی ٹائزراور دیگر ضروری اشیا ء بھی تقسیم کررہے ہیں اور دیہاڑی دار مزدوروں اور نادار و مستحق لوگوں میں خشک راشن اور پکاہوا کھانا بھی پہنچا رہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ عمران نقشبندی نے کہا کہ عالمی وبا کروناء وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہیانہوں نے لاک ڈاؤن کے موقع پر ضروریات زندگی کی اشیاء کو ذخیرہ کرکے منہ مانگے داموں فروخت کرنے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مشکل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کرنا گناہ کبیرہ ہےایسے افراد جو مشکل حالات و آزمائش کی گھڑی میں قوم کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں وہ اسلامی اور ملکی قوانین دونوں کے مجرم ہیں، ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لا کر لوگوں کی مدد کرکے مسائل کا سدباب کرے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قحط کے دنوں میں رعایا میں مشکل کا احساس بیدار رکھنے کے لئے خود بھی بھوک برداشت کیا کرتے تھے قحط کی صورت میں سب کو وسعت قلبی کی ضرورت ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک بھرمیں عالمی وباء کرو نا کی تھام لیے کیے گئے لاک ڈاؤن سے نظام زندگی مکمل تعطل کا شکار ہے مزدور، د یہاری دار، سفید پوش طبقہ ان حالات میں شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہے حکومت نے گھروں میں محصور عوام کو ریلیف پیکیج دینے کا اعلان تو کیا ہے مگر اس پر عمل درآمد ہوتا کب ہے یہ نہیں معلوم لہذا ایسے حالات میں مخیر حضرات و سماجی تنظیمیں آگے بڑھ کر ملک کے طول وعرض میں غریب،بے سہارا،بیآسرا افراد کی بھر پور مدد کریں تا کہ مشکل کی اس گھڑی کا مقابلہ اتحاد و یکجہتی سے کیا جاسکے۔ اجلاس کے آخر میں وطن عزیز کی سلامتی، استحکام،خوشحالی اور کرونا ء کی وباء کے خاتمے اور اس سے تحفظ کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔


موضوعات: