ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

ایران سے واپس آنے والے زائرین سے متعلق حکومت نے اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

تفتان( آن لائن ) حکومت نے ایران سے واپس آنے والے زائرین کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بلوچستان کے ضلع تفتان اور دالبندین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ جام کمال سے بھی ملاقات کی۔وزیراعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایاکہ تفتان میں رکے ہوئے وہ زائرین جو ایران جانا چاہتے تھے،

انہوں نے رضاکارانہ طور پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جن کی تعداد 273 ہے۔ معاون خصوصی اور وزیراعلیٰ کی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ان زائرین کو سیکیورٹی اور سفری سہولیات فراہم کرکے فوری طور پر کوئٹہ لایا جائے گا۔ملاقات میں طے کیا گیا کہ تفتان میں پاکستان ہاؤس میں ہنگامی بنیادوں پر قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈ قائم کیا جائے گا اور زائرین کو ایک ایک ہزار کی تعداد میں روزانہ اسکریننگ کے بعد وطن واپس لایا جائے گا جب کہ زائرین کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ اور معاون خصوصی نے فیصلہ کیا کہ وائرس کی علامات پائے جانے والے شخص کو مزید تشخیص کے لیے آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا اور کوئٹہ میں حال ہی میں قائم کی گئی لیبارٹری میں ان کے نمونے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تفتان میں قرنطینہ اور تفتان اور دالبندین میں آئسولیشن وارڈ کے قیام کے لیے فوری طور پر 200 ملین روپے جاری کردیئے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کوئٹہ میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جدید لیبارٹری قائم کردی گئی ہے جو جلد فعال ہوجائے گی، لیبارٹری میں روزانہ کی بنیاد پر 100 ٹیسٹ کیے جاسکیں گے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارت صحت نے پاکستان واپس آنے والے زائرین کے ٹیسٹ، اسکریننگ کرنے اور انہیں وہاں ایک ہفتہ تک زیرنگرانی رکھنے کی پیشکش کی ہے، پیشکش کا تفصیلی جائزہ لے کر اس حوالے سے زائرین کے مفاد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…