بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

جسٹس فائز عیسیٰ کی جاسوسی کرنا حکومت کا شرمناک عمل، کیس حکومت کے لئے بڑا سیکنڈل بن سکتا ہے،حکومت کا بوریا بستر کب گول ہونیوالا ہے؟ دھماکہ خیز دعوے

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی جاسوسی کرنا حکومت کا شرمناک عمل ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس حکومت کے لئے بڑا سیکنڈل بن سکتا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی ایک دوسرے پر الزام تراشی تشویشناک ہے۔ نااہل حکومت کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے۔ مارچ میں مارچ ہو گا اور حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔

جے یو پی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینا چاہئے۔ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں بھارتی فنکاروں کو بلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ حکمرانوں کی نااہلی ملک کے لئے کرپشن سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ ڈیڑھ سال کی مایوس کن کارکردگی نے عمران خان کی نااہلی ثابت کر دی ہے۔ حکمران خوشحال اور عوام بدحال ہو چکی ہے۔ اگلے ماہ ملک میں غیر متوقع سیاسی تبدیلیاں آئیں گی۔ نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔ مارچ تبدیلی کا مہینہ ثابت ہو گا۔ حکومتی بیساکھیاں ٹوٹنے والی ہیں۔ حکومتی اتحاد میں توڑ پھوڑ گیم چینجر ثابت ہو گی۔ اصلی سیاست مارچ میں شروع ہو گی۔ حکومتی اتحاد ٹوٹ کر بکھرنے والا ہے۔ حکومت مخالف تحریک کا ماحول بن چکا ہے۔ نااہل حکومت نے پاکستان کو مسائلستان بنا دیا ہے۔ سیاسی تبدیلی کا آغاز پنجاب سے ہو گا۔ ان ہاؤس تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جے یو پی کے مرکزی و صوبائی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ آٹے کے بحران میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں۔ پی ٹی آئی سیاسی جمہوری جماعت نہیں مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے۔ حکومت حج اخراجات میں اضافہ کر کے حج جیسی عبادت کو مشکل نہ بنائے۔ جھوٹے دعووں اور کھوکھلے وعدوں سے ملک نہیں چل سکتا۔ پی ٹی آئی کی بچگانہ حکومت نے ریاستی امور کو بازیچہ اطفال بنا دیا ہے۔ کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مارچ سے حکومت کے خلاف نئی تحریک شروع ہو رہی ہے۔ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ نئے پاکستان میں لنگر خانوں کے سوا کچھ بھی نیا نہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…