مریم بی بی ناجانے کس مصلحت کا شکار ہیں ان کی آواز قوم کو سنائی نہیں دے رہی، ن لیگ کی زبان بندی کا موسم ہے، دھماکہ خیز دعویٰ کر دیا گیا

  اتوار‬‮ 23 فروری‬‮ 2020  |  21:43

لاہور(این این آئی) وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کاگٹھ جوڑ عوام کے مفاد کیلئے نہیں تھا اور اب بلاول کو نوازشریف سے متعلق حقیقت کی سمجھ آگئی ہے، مریم بی بی ناجانے کس مصلحت کا شکار ہیں ان کی آواز قوم کو سنائی نہیں دے رہی اور جو عوام کے درد سے نڈھال تھے وہ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہے،(ن)لیگ میں اس وقت زبان بندی کاموسم آیا ہوا ہے،انسان کو بیماری ہوتو اس کا علاج ہوتا ہے لیکن اقتدار سے دوری کی بیماری لاعلاج ہے،مہنگائی کا رونا اور


درد صرف تیسرے درجے کی قیادت بیان کر رہی ہے جو عوام کے درد میں نڈھال تھے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے،نوازشریف کے سہولت کار اپوزیشن لیڈر کا چیمبر شہباز شریف کا انتظار کر رہا ہے یہ خلا لندن کی ہوا پر نہیں کر سکتی ٗ وہ واپس پاکستان آئیں،پیپلز پارٹی کی چھ ماہ کی بڑھکیں دیوانے کی بڑھکیں ہیں، ان کو کئی چھ ماہ حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے مینار پاکستان پر تحریک انصاف وسطی پنجاب کے تنظیمی کنونش میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں وسطی پنجاب کے کارکنوں کا تنظیمی کنونشن پاکستان کی مضبوطی ٗ استحکام اور گلے سڑے نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا واضح اظہار ہے، تحریک انصاف کے کارکنوں نے بہت ہی کم عرصے میں مشکل ترین مورچہ جس کو (ن) لیگ اپنا قلعہ تصور کرتی تھی اس میں شگاف ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے سیاسی عدم بلوغت کے شکار ایک لیڈر نے لاہور میں بیٹھ کر ایک سچ بولا اور نوازشریف کے حوالے سے سچ بات کی جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں، جس میں انہوں نے نواز شریف اور ن لیگ پنجاب کی قیادت کے حوالے سے حقائق عوام کو بتائے، بلاول بھٹو پہلے ان حقائق سے آگاہ تھے لیکن ان کو دیر سے سمجھ آئی، ہمیں تو علم تھا کہ یہ گٹھ جوڑ اور مک مکا ہے جو عوام اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے یہ اپنے اپنے مال پانی کو بچانے کے لئے تھا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے حکمران جن کی طرف بلاول بھٹو نشان دہی کر رہے ہیں اس وقت ا نہیں اپوزیشن کرنی چاہیے تھی لیکن وہ جاتی امراء میں دعوتیں کھا تے رہے،آج بلاول بھٹو کی گفتگو قابل تحسین ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے ان کو اس بات پر والد سے ڈانٹ پڑے گی کیونکہ ان دونوں کا نظریہ الگ الگ ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہٗ دوسری طرف ایک بیمار پردیسی کو لندن گئے کئی ماہ گزر گئے اور رانا ثناء اللہ نے ان کی سرجری کی صبح کی تاریخ دی تھی اور بار بار کہا کہ ان کا آپریشن ہونے جا ر ہا ہے،رانا ثناء اللہ کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ میڈیا کی آنکھیں پلیٹ لٹس کی گونج سننے کو ترس گئی ہیںجن کی بناء پر انہوں نے عدالتوں سے ریلیف لیا اور جس بیماری کے علاج کے لئے نواز شریف لندن گئے وہ بیماری کونسی پراسرار بیماری ہے جس کا دنیا کے نامور ڈاکٹرز یو کے میں بیٹھ کر بھی کوئی علاج تشخیص نہیں کر پا رہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ اس بیماری کا نام اقتدار سے دوری ہے ٗ اقتدار میں جب یہ ہوتے ہیں تو پاکستان میں صحت مند ہو کر شہنشاہ عالم کی طرح اس ملک پر حکمرانی کرتے ہیں اور جب عوام ووٹ کی پرچی سے ان کو مسترد کر دیتی ہے تو پھر بیماریاں ان کو گھیر لیتی ہیں اور اس بیماری کا پتہ دنیا کے وہ تمام پروفیشنل اور مستند ڈاکٹر ابھی تک نہیں لگا سکے یہ بات اس ابہام کو جنم دیتی ہے کہبیماری ہو تو اس کا علاج ہوتا ہے اقتدار سے جڑی بیماری لا علاج بیماری ہے،نواز شریف کے بارے میں ہم دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ایک سہولت کار اپوزیشن لیڈر کا چیمبر ان کا انتظار کر رہا ہے ٗ اوراس وقت جو (ن) لیگ کی قیادت میں قحط پڑا ہوا ہے (ن) لیگ میں جو زبان بندی کا موسم آیا ہوا ہے،مریم نواز نہ جانے کس مصلحت کا شکار ہیں اور ان کی آواز قوم کو سنائی نہیں دے رہی ٗانہوں نے کہا کہ مہنگائی کا رونا اور درد صرف تیسرے درجے کی قیادت بیان کر رہی ہے جو عوام کے درد میں نڈھال تھے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہ درد عوام کا نہیں اقتدار، ذات اور کاروبار کا درد ہےاور جنہوں نے ہمیشہ لاہور کے نام پر سیاست کی آج بھی لاہور کے انٹری پوائنٹس پر ٹریفک کا بے ہنگم نظام اور کچی آبادیاں ٗ سیوریج کا ناقص نظام اور لاہوری للکار للکار کر اپنے کھربوں روپے کا حساب مانگ رہے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ وہ فنڈز جو جنوبی پنجاب یا شمالی پنجاب کے ہوں ہر فنڈ ز کو لاہور میں میگاپراجیکٹ بنانے پر لگایا گیا ان منصوبوں کے مثبت اثرات عوام تک دکھائی نہیں دے رہے ٗ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی تنظیموں نے عمران خان کے نظریے ٗ فلسفے کے ساتھ جڑے رہنے اور پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم لاہور کے اندر سیاسی قبضہ مافیا کا صفایا کریں اور یہ کارکنوں کا ہراول دستہ پاکستان کے نظریے کو مضبوط کرے گا اور پاکستان مضبوط ہوگا ترقی و خوشحالی کے ثمرات عوام تک آئیں گے ٗایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 23فروری کا دن دختران کشمیر کے نام ہے اور آج کے دن ہماری بیٹیاں جنہوں نے اپنے سہاگ جدوجہد آزادی کشمیر پر نچھاور کئے ان کو سلام پیش کرنے کا دن ہے اور یہ دن تجدید عہد کا دن ہے کہ آج کے دن جو اجتماعی بے حرمتی ہوئی اور جو درندگی کی مثال ہندوستان کی فوج نے قائم کی آج اس کی مذمت کا دن ہے اور ایک دفعہ پر پھر دنیا کو بتانے کا دن ہے کہ شاہین باغ میں بیٹھی ہماری بہنیں جو سراپا احتماج ہیں ان کو یہ پیغام پہنچانے کا دن ہے کہ پاکستان کی بیٹیاں پاکستان کی بہنیں ٗ مائیں اپنی کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کو ہم بے یارومددگار نہیں چھوڑیں گے ٗ وہ دن دور نہیں جب ان کو آزادی کا سورج طلوع ہوتا دکھائی دے گا ٗ اور غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور کشمیر آزاد ہوگا ٗ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہمینار پاکستان کا تنظیمی کنونشن ایک ٹریلر تھا اور یہ پورا پنجاب نہیں تھا یہ تین ڈویژن کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا اس کا مطلب یہ ہے وہ عقل کے اندھے جو یہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف اپنی مقبولیت کھو چکی ہے ٗ یہ کنونشن ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے ضروری تھا کہ ہم موثر انداز سے اس پراپیگنڈے کا مقابلہ کریں، جواب دیں اور تعین کریں کہ وہ سیاسی مخالفین جو عمران خان کی مقبولیت سے خا ئف اور لولے لنگڑے جو عوام کے ہمدرد بن کے مگرمچھ کے آنسو بہا کر سمجھ رہے تھے کہ وہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹ لیں گے ٗ عمران خان کے سپاہیوں کی آواز پر اگر اتنا مجمع آ سکتا ہے تو عمرا ن خان نے ابھی ان کو آواز نہیں دی ٗ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، عوام کا درد و احساس ان کے دل میں ہے اور عوام بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ان کے لئے صرف ایک مسیحا ہے جو ان دو خاندانوں کے استحصال سے نجات دلا کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے،وہی پاکستان کو ہر مسئلہ سے نکالیں گے ٗ مہنگائی سے نجات ملے گی اور عوام کے سامنے ہم سرخرو ہوں گے ٗ ایک سوال کے جواب میں فرودس عاشق اعوان نے کہا کہ چھ ماہ میں حکومت جانے کے خواب دیکھنے والوں کو کوئی ہوش دلائے اور جگائے جو دن کی روشنی میں سہانے خواب دیکھتے ہیں انہیں یہ خبر تو نہیں ہوگی کہ سندھ میں ان کا اقتدار ہچکولے کھانے لگا ہے اور سندھ کے اندر ان کے اقتدار کی کشتی منجھدار میں پھنسنے جا رہی ہے ان کو سندھ کے عوام کب تک برداشت کریں گے ٗ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کی بڑھکیں دیوانے کی بڑھکیں ہیں اور ان کو کئی چھ ماہ حکومت کوبرداشت کرنا پڑے گا اور ان سے سندھ کے بچے حساب مانگتے رہیں گے ٗ سندھ کے اندر کتے کے کاٹے کی ویکسیئن کے لئے بلکتے رہیں گے ٗ سندھ میں غربت اور افلاس کا شکار بچے پیپلز پارٹی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے ٗ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اوقاف والے معاملے پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا گیا، خاتون اول ملک کا وقار ہیں ٗ پاکستان کی گرین بک ہو ٗ بلیو یا ریڈ سب کے ایس او پیز طے ہیں ٗ جس کا پروٹوکول اور عہدہ بنتا ہے اس کے مطابق عزت اس کا حق ہے اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات کے بعد حقیقت پر مبنی معلومات میڈیا سے شیئر کی جاسکتی ہیں۔


موضوعات: