جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ریپ کا نشانہ بننے والی 14 سالہ لڑکی کے ہاں بچی کی پیدائش ،پولیس کیس کی وجہ سے بچی کو والدہ کے حوالے کیا جائیگا یا نہیں؟سوالات اٹھ گئے ،ایک جوڑے نےدونوں کی کفالت کی پیشکش کردی

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر راولپنڈی میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی 14 سالہ لڑکی نے ایک بچی کو جنم دیدیا،ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے بتایا کہ جمعرات کی رات متاثرہ لڑکی کو ہسپتال لایا گیا اور ان کے ہاں نارمل ڈلیوری ہوئی ہے۔

لڑکی اور ان کی نومولود بیٹی دونوں بالکل خیریت سے ہیں اور انھیں کل چھٹی دے دی جائے گی۔ڈاکٹر نے بتایا کہ پولیس کیس ہونے کی وجہ سے نومولود بچی کو ہسپتال کی نرسری میں ہی رکھا گیا ہے اور ابھی ماں کو نہیں دیا گیا۔اب پولیس کے سامنے یہ سوال ہے کہ کل ہسپتال سے چھٹی کے وقت نومولود کو اس 14 سالہ لڑکی کے حوالے کیا جائے یا پھر کسی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ذریعے کسی ادارے یا کسی جوڑے کی کفالت میں دیا جائے۔ہسپتال کی سکیورٹی پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ ایسے بچوں کو اگر ماں خود نہ پال سکے تو یا تو ایدھی والوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے یا پھر سویٹ ہوم کے ہسپتال کی ایم ایس اور اعلیٰ حکام اس کا فیصلہ کریں گے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کو ماں سے کوئی جدا نہیں کر سکتا جب تک ماں خود اس کی کسٹڈی کسی دوسرے کو نہ دے دے۔ اور اس سارے عمل میں کچھ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انھیں مارچ کے مہینے میں آنے کو کہا تھا لیکن گذشتہ شام ان کی بیٹی کی طبیعت اچانک بگڑنے کی وجہ سے اسے یہاں لایا گیا اور پھر بچی کی ولادت ہو گئی۔ہم چاہتے ہیں کہ نومولود کو کسی جوڑے کے سپرد کیا جائے اور لڑکی کو تعلیم اور رہائش کے لیے ایک فلاحی ادارے میں بھجوا دیا جائے تاکہ وہ اپنا مستقبل بہتر بنا سکے۔اس خبر کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد شہر میں رہنے والے ایک خاندان نے اس لڑکی اور اس کے پیدا ہونے والی بچی کی کفالت کرنے کی پیشکش کی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…