جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

مہنگائی، قیمتوں پر کنٹرول کے نظام کی ناکامی اور بدانتظامی کے سبب ملک کی تقریباً نصف آباد ی غذائی قلت کا شکار ہو چکی، مہنگائی کو بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، قیمتوں پر کنٹرول کے نظام کی ناکامی اور بدانتظامی کے سبب ملک کی تقریباً نصف آباد ی غذائی قلت کا شکار ہو چکی ہے۔منافع خوروں کے خلاف حقیقی اقدامات کئے جائیں جبکہ پھلوں سبزیوں گوشت اور پولٹری سمیت ہر قسم کی اشیائے خور و نوش کی برامد پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ملک میں انکی قیمت کم ہو سکے۔

برامدکنندگان کا منافع عوام سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ زرعی اشیاء میں غذائیت کم ہو رہی ہے جس کے لئے ریسرچ اینڈ دویلپمنٹ کو فعال کیا جائے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے مقابلہ کے لئے نئے بیج تیار کئے جائیں۔ بڑھتی آبادی گرتی ہوئی زرعی پیداوار اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صحت عامہ کے لئے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔کچھ ماہ میں گندم کپاس اور سبزیوں کا قابل ذکر حصہ ضائع ہو چکا ہے جس نے فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ گھمبیر کر دیا ہے جس پر قابو پانے کے لئے بیانات کے بجائے اقدامات کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر قابو پانے پر توانائی ضائع کرنے سے زیادہ عوام کا خون پینے والی چینی اور آٹا مافیا پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔غذائی بحران میں پیداوار میں کمی سے زیادہ ہاتھ منافع خوری اور ارباب اختیار کی بد انتظامی کا ہے جس سے ملک کے امیر طبقے کے علاوہ کوئی محفوظ نہیں رہا ہے جبکہ سب سے زیادہ منفی اثر بچوں اور انکی ماؤں پر پڑ اہے۔مناسب غذا کی کمی سے بچوں کی ملکی آبادی میں سے نصف سے زیادہ کا وزن کم ہو چکا ہے جس نے آنے والی نسل کی صحت اور معاشرے میں انکے کردار کے متعلق سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔غذائی قلت کی وجہ سے بیمار پڑنے والوں کو علاج معالجہ کے لئے مناسب خوراک کے مقابلہ میں کم ازکم سولہ فیصدزیادہ اخراجات کرنا پڑتے ہیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ادویات کی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر آٹے اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی گئی تو انکی اور دیگر منافع خوروں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…