جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

شرح سود کو کم کیاجا سکتاہے، اگر یہ چیز نہ بڑھائی گئی تو پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، اسد عمر بھی بول پڑے

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ شرح سود کو کم کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا فیصلہ مانیٹری پالیسی کرتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہے اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ایک انٹرویومیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے پر بحث تو 20 سال سے جاری ہے اور یہ زبردست منصوبہ ہے جبکہ یہ منصوبہ سندھ حکومت کے پاس ہے،

وفاق ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے، چیف جسٹس پاکستان چاہتے ہیں کہ وفاق اس منصوبے کی ذمہ داری لے یہ سندھ حکومت نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت رہے اور انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی کاموں کو سراہا جبکہ منی بجٹ کے حوالے سے مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی برآمد نہیں بڑھائیں گے تو پاکستان ترقی نہیں کر سکتا،جب تک ہم اپنی برآمد نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک مسائل کا سامنا رہے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پالیسی ریٹ سینٹرل بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی بناتی ہے،اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ ایک آزاد ادارہ ہے۔ پالیسی ریٹ کا فیصلہ حکومت نہیں بلکہ مانیٹری پالیسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود کو فوری طور پر کم نہیں کیا جا سکتا تاہم اسے دو قسطوں میں نیچے لایا جا سکتا ہے اور شرح سود کم ہو گا تو مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اچھا نظام یہ ہوتا ہے کہ پروفیشنل لوگ خود فیصلے کر رہے ہوں کوئی اور ان کو ڈکٹیشن نہ کرا رہا ہوں۔اسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے اخراجات کی تفصیلات ہم بین الاقوامی مالیاتی ادارہ کو دے چکے ہیں جبکہ عوام سے بھی ہم نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔ مالی سال 20-2019 تبدیلی کا سال ہے۔انہوں نے کہا کہ 15 ٹریلین کسی صوبے کو نہیں دیا جا رہا ہاں یہ 1.5 ٹریلین ہو سکتا ہے،فواد چوہدری کا بیان کسی صورت درست نہیں ہے،ترقیاتی اخراجات ہو رہے ہیں یہ درست نہیں کہ حکومت سے پیسے بھی خرچ نہیں ہو رہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ شرح سود کم ہو سکتا ہے تاہم کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ مانیٹری پالیسی نے کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…