ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

جعلی ڈگری والے ملازمین کیخلاف شکنجہ کس لیا گیا ، ان کیساتھ کیا کیا جائے گا ؟چیف جسٹس نے کیس کی سماعت میں بڑا اعلان کر دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(اے این این ) سپریم کورٹ نے پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگری سے متعلق مقدمات کی تفصیل طلب کرلی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ جعلی ڈگری والے ملازمین کو ایک ایک کر کے نکالیں گے۔منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی آئی اے نجکاری اور خسارہ کیس کی سماعت کی۔ پی آئی اے کے وکیل نعیم بخاری نے آگاہ کیا کہ

پی آئی اے پر 426 ارب روپے کا قرض ہو گیا، نئی انتظامیہ قومی ائیر لائن کی بحالی اور خسارہ کم کرنے کیلئے کوشاں ہے لیکن سندھ ہائیکورٹ نے موجودہ ایم ڈی ارشد محمود کو کام سے روک دیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پی آئی اے کی بساط نہیں تھی تو قرض کیوں لیا، ائیر لائن کی نجکاری کی خبریں قومی ادارے کیساتھ مذاق ہے، نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر نہیں بلکہ نیویارک پر ہیں، ایک جہاز کے لیے 700 ملازم کام کرتے ہیں، ریاستی ادارے کو بند ہونے نہیں دینگے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی آئی اے نئے جہاز خرید رہا ہے یا نہیں، وکیل نعیم بخاری نے جواب دیا کہ نئے جہاز خریدنے کیلئے پیسے ہی نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جعلی ڈگری والے جہاز چلا رہے ہیں، پی آئی اے ملازمین نے الخیر یونیورسٹی سے ڈگریاں لے رکھی ہیں اور الخیر یونیورسٹی تعلیمی اسناد فروخت کرتی ہے،جعلی ڈگری والوں کے مقدمات یہاں سنیں گے،جعلی ڈگری ملازمین کو ایک ایک کرکے نکالیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے کو ملنے والا مالی بیل آوٹ پیکج مہینوں میں ختم ہو جاتا ہے۔سابق معاون خصوصی شجاعت عظیم کی استدعا پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیکر رپورٹ طلب کرلی، کیس کی سماعت 4 ہفتوں بعد دوبارہ ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…