کیا واقعی ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اور اب حکومت کے کیس بھی کھلیں گے؟مولانا کیسے آئے تھے اور کیسے واپس گئے؟کیا واقعی عدالت نے نوازشریف کے ساتھ خصوصی سلوک کیا؟چیئرمین نیب،فضل الرحمان اور فواد چودھری کا اشارہ کس طرف تھا؟مستقبل کا”نقشہ“کیاہوگا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

  منگل‬‮ 19 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:09

دنیا میں ہر لفظ‘ ہر سطر کے دو معانی ہوتے ہیں‘ ایک وہ معانی ہوتا ہے جو بظاہر نظر آتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو لفظوں اور سطروں کے پیچھے (چھپا) ہوتا ہے‘ یہ (چھپا) ہوا معانی اصل مطلب‘ اصل معانی ہوتاہے مثلاً ایک بار اٹالین مافیا کے ڈان نے ایک وکیل کو (بلایا)‘ڈان نے دروازے پر کھڑے ہو کر (اس) کا استقبال کیا‘ کرسی کھینچ کر (اسے)۔۔بٹھایا‘ شان دار کھانا کھلایا اور دل کھول کر (اس) کی تعریف کی‘تعریف (سن) کر وکیل کھڑا ہوا اور ڈان کے پاؤں پڑ گیا‘ ڈان نے پوچھا ”کیا ہوا“ وہ بولا‘


سر آپ مجھے معاف کر دیں‘ مجھے قتل نہ کریں‘ ڈان نے ہنس کر پوچھا تمہیں کیسے پتا چلا میں تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں‘ وکیل نے روتے ہوئے جواب دیا سر آپ نے میری تعریف میں جتنے بھی لفظ بولے ہیں یہ آپ ہمیشہ تعزیت کے وقت بولتے ہیں‘ میں نے۔۔اس سے اندازہ لگایا میرا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ آپ اس واقعے سے لفظوں کے اندر چھپے معانی کا اندازہ کیجیے اور۔۔اس کے بعد آج نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کے خطاب کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے‘ ”چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ایک شخص لندن یا امریکا میں علاج کراتا ہے، باقی انسان نہیں، نیب کی طرف سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہوگی، کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ صاحب اقتدار کی طرف آنکھیں بند رکھیں گے، سمجھوتہ کرنے یا سرینڈر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“ آپ کو۔۔ان کے لفظ بھی کچھ کہتے نظر آئیں گے، آج مولانا فضل الرحمن نے بھی چند فقرے بولے‘ ان فقروں کے پیچھے بھی کچھ (چھپا) ہوا ہے‘ آپ یہ بھی ملاحظہ کیجیے ”مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ تمھاری جڑیں کٹ چکی اور دن گنے جا چکے ہیں، ہم اسلام آباد ایسے نہیں گئے تھے اور نہ ہی وہاں سے ایسے واپس آئے ہیں،ہمارے حکمران معیشت برباد کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں، جب تک پاکستان کے وفادار زندہ ہیں تب تک پاکستان کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“ اور آج فواد چودھری نے بھی کچھ ایسا فرمایا جس میں حکومت کی ناراضی (چھپی) ہوئی نظر آتی ہے ”وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب جس طرح سے سیڑھیاں بھاگ بھاگ کر چلے لگتا ہے ان کی طبیعت بہتر ہوئی ہے، سابق وزیر اعظم کی وا پسی کیلئے چلے کاٹنے ہونگے،میری رائے ہے نوازشریف کے فیصلے کو چیلنج کیاجائے،نواز شریف کے جانے پر اعتراض نہیں، جس طریقے سے نواز شریف کو بھیجا گیا طریقہ کار پر اختلاف ہے، مسلم لیگ(ن)اپنے منشور کا نام چمڑہ جائیں پر دمڑی نا جائے کر لے“ آپ۔۔ان فقروں کو غور سے سنیں آپ کو یہ مستقبل کا سارا نقشہ بیان کرتے نظر آئیں گے۔ کیا واقعی ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اور اب حکومت کے اتحادیوں چودھری صاحبان‘ اختر مینگل اور ایم کیو ایم کے کیس بھی کھلیں گے اور پرویز خٹک‘ بابر اعوان‘ جہانگیر ترین اور علیم خان سمیت حکومت کے اہم وزراء بھی نیب کورٹ میں پیش ہوں گے اور کیا واقعی مولانا ویسے ہی نہیں آئے تھے اور ویسے ہی نہیں گئے تھے اور کیا واقعی عدالت نے بقول فواد چودھری میاں نواز شریف کے ساتھ خصوصی سلوک کیا؟۔

loading...