ایئر ایمبولینس کے بجائے قطر ایئرویز کی کمرشل پرواز ”شدید بیمار“ نوازشریف کی ٹکٹ کنفرم، ساتھ کون کون جائیگا؟ ٹکٹ پر واپسی کی تاریخ کیا لکھی ہے؟ حیرت انگیز انکشافات‎

  ہفتہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  21:57

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پیر کی صبح لندن کے لیے روانہ ہوں گے، میاں نواز شریف ائیر ایمبولینس کی بجائے قطر ائیر ویز کے کمرشل طیارے سے لندن کے لیے پیر کی صبح 9 بج کر 5 منٹ پر لاہور سے روانہ ہوں گے، میاں نواز شریف کے ساتھ شہباز اور ڈاکٹر عدنان کی بھی ٹکٹ بک کرائی گئی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق بک کی گئی ٹکٹ پر واپسی کی تاریخ 27 نومبر درج ہے،میاں نواز شریف کی فلائٹ کیو آر 629 سے لندن کے لیے روانہ ہوں گے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی


چینل کے پروگرام میں ڈیل کا انکشاف سامنے آیا ہے، معروف صحافی صابر شاکر نے کسی صارف کی ٹویٹ شیئر کی، اس ٹویٹ میں صارف نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی اور بیرون ملکروانگی ڈیل کا نتیجہ ہے، صارف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ مریم نواز کو اسی وجہ سے ضمانت ملی ہے، ٹویٹ میں مزید لکھا گیا کہ اس سارے معاملے میں گیم چینجر شہباز شریف ہیں۔ دوران پروگرام معروف صحافی صابر شاکر نے گفتگو کرتے ہوئے امکان ظاہر کیاکہ سارا کام سکے (مفت میں) میں نہیں ہوا، چیز اس معاملے میں طے ہوئی ہیں۔ ان کی اس بات پر سینئر صحافی چوہدری خادم حسین نے کہا کہ میاں نواز شریف کی صحت تھوڑی خراب تھی، زیادہ تھی یا گھمبیر تھی، یہ سارا معاملہ کل آنے والی رقم کی وجہ سے اتفاقاً جڑ گیا ہے، چوہدری خادم حسین نے کہا کہ اس رقم کے آنے کا کوئی ذریعہ بھی ظاہر نہیں کیاگیا ہے، انہوں نے کہاکہ آپ چودہ ارب ڈالر کی فگر ذہن میں رکھیں، تھوڑی تھوڑی کرکے یہ رقم کچھ کیش، انویسٹمنٹ اور کسی دوسرے طریقے سے پاکستان میں لانے کے لیے سب کچھ طے ہوا ہے۔ چوہدری خادم حسین نے کہا کہ دو تین لوگوں کے ذریعے یہ 14 ارب ڈالر پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی صحت کی خرابی اور یہ 14 ارب ڈالر والی دونوں باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔دوسری جانب چیئرمین قومی احتساب بیورو کی عدم موجودگی کی وجہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ہفتہ کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہیں نکل سکا۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کا متعلقہ عملہ رات گئے تک وزارت داخلہ میں بیٹھارہا۔ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب آپریشنز بھی نیب کے دفتر آئے تاہم چیئرمین نیب کی عدم دستیابی کے باعث ای سی ایل سے نام نکالنے کی کارروائی نہ ہوسکی۔ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے نیب کا سند عدم اعتراض (این او سی) ضروری تقاضا ہے۔خیال رہے کہ نواز شریف کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔نواز شریف کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا اس لیے حکومت نیب سے مشاورت کرے گی اور قوی امکان ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف اتوار کو قومی پرواز سے لندن جائیں گے۔ذرائع کے مطابق نوازشریف کے علاج کیلئے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں تیاریاں شروع کردی گئی ، شریف فیملی کی نیویارک میں بھی ڈاکٹر سے بات ہورہی ہے۔

موضوعات:

loading...