نمرتا کی ہلاکت سے دو روز قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئیں،فوٹیجز میں نمرتا کن دو لڑکوں کے ساتھ تھی؟انتظامیہ کو اطلاع دیئے بغیر لاش کس نے منتقل کی اور شواہد چھپائے؟ حیرت انگیز انکشافات

  جمعہ‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2019  |  20:46

لاڑکانہ(این این آئی)بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کی ہلاکت سے دو روز قبل 13 ستمبر کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئیں، فوٹیجز میں نمرتا کو اپنے ساتھی کلاس فیلوز مہران ابڑو اور علی شان میمن کے ساتھ گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے، نمرتا کے لواحقین کی پراسرار خاموشی، پانچ روز بعد بھی مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا،پولیس نے روم اور سائیڈ روم میٹس، ہاسٹل چوکیدار سمیت 27 افراد کے بیانات قلمبند کرلیے، جوڈیشل انکوائری بھی شروع نہیں کی جاسکی، وائیس چانسلر نے بھی چانڈکا ہاسٹل نمبر تھری کے سات ملازمین کو غفلت،


لاپرواہی، یونیورسٹی انتظامیہ کو اطلاع دیئے بغیر لاش کی اسپتال منتقلی کے علاوہ شواہد کو نقصان پہنچانے کے الزام میں معطل اور برطرف کردیا ہے، پی ٹی آئی کی رکن سندھ اسمبلی کو کالج جانے سے روک دیا گیا، طلبہ سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تفصیلات کے مطابق نمرتا ہلاکت کیس میں تفتیش کے دائرہ کار وسیع ہونے کے ساتھ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، واقع سے دو روز قبل 13 ستمبر کی موصول ہونے والی سی سی ٹی وی فٹیجز میں نمرتا کو کالج کے آخری روز رویڑن کلاس کے بعد آڈیوٹوریم ہال میں پولیس کے زیر حراست مہران ابڑو اور علی شان میمن کے ساتھ بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے جس کے بعد 16 ستمبر کو کالج کے ہاسٹل سے نمرتا کی نعش برآمد ہوئی، نمرتا کے والد جئے پال داس، بھائی وشال و دیگر بھی دو روز سے خاموش ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ نمرتا کی ہلاکت کے پانچویں روز بھی نہ تو مقدمہ درج کیا سکا ہے، نمرتا سمیت مہران ابڑو اور علی شان میمن کے موبائل فونز سے ڈلیٹ میسیجز رکور کرنے کے لیے فارنزک رپورٹ اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی آنا باقی ہے، نمرتا ہلاکت کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس الگ الگ تحقیقات کر رہی ہیںجبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کو سونپی گئی جوڈیشل انکوائری پر بھی تاحال کوئی مراسلا جاری نہیں ہوا ہے گزشتہ تین روز سے پولیس کے زیر حراست علی شان میمن اور مہران ابڑو سے بھی تاحال کسی کا رابطہ نہیں ہوسکا اور نہ ہی ورثہ کی جانب سے کوئی بیانیہ سامنے آیا ہے نمرتا ہلاکت کیس تاحال بھی ایک معمہ ہے، دوسری جانب جامعہ بے نظیر بھٹو کی وائیس چانسلر نے شدید دباؤ پر تین روز بعد چانڈکا میڈیکل کالج ہاسٹل تھری کے چوکیدار خان محمد میربحر، سینیئر کلرک سید حسین شاہ، جونیئر کلرک روزینہ اور چوکیدار اکبر تونیو کو لاپرواہی، غفلت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سمیت چانڈکا کالج انتظامیہ کو اطلاع دیئے گئے ہاسٹل کے روم نمبر 47 کا دروازہ توڑنے پر معطل کردیا ہےجبکہ ہاسٹل کی تین وارڈنز عصمہ، حسینہ اور نادیہ کو ڈیوٹی پر دیر سے آنے کے علاوہ نمرتا کی لاش کو اسپتال منتقل کرنے کے دوران روکنے اور مداخلت نہ کرنے سمیت شواہد کو نقصان پہنچانے پر ملازمتوں سے برخاست کردیا ہے، نمرتا واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے روم اور سائیڈ روم میٹس، ہاسٹل چوکیدار سمیت 27 افراد کے بیانات قلمبند کرلیے، دوسری جانب پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی چانڈکا میڈیکل کالج کی مین گیٹ پر پہنچی جہاں سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں نے اسے روک دیا بعد ازاں دعا بھٹو نے طلبہ کے ساتھ کالج کے باہر دھرنا دے کر احتجاج بھی رکارڈ کروایا، ادھر واقعے کے خلاف چانڈکا میڈیکل کالج، بیبی آصفہ ڈینٹل کالج سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کرکے نمرتا کے والدین کو انصاف فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا

loading...