اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

اگر حکومت گرانے میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ نہ دیا تو پھر کیا ہو گا؟ جمعیت علمائے پاکستان نے حیران کن دعویٰ کر دیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیراعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ حکومت مخالف جماعتوں کا متحد ہونا ضروری ہے، متحدہ اپوزیشن کو مولانا فضل الرحمن کی آواز کے ساتھ آواز میں ملانی چاہیے، ورنہ پہلے سے زیادہ کمزور ہوں گے۔متحدہ مجلس عمل کی حکومت مخالف تحریک سے صرف وہی جماعتیں دور ہو رہی ہیں جن کی اپنی مجبوریاں ہیں،

جے یو پی کی کوئی مجبوری نہیں ہم جمہوری روایات اور آئین کی حفاظت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی حکومت مخالف تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت سے نجات ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے جمہوری روایات کو تباہ کیا گیا ملکی معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے عام آدمی معیشت کے چکر میں پھنس چکا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں کہیں خودکشیوں کی شرح میں اضافہ نہ ہوجائے۔ غیر رسمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ سیاستدانوں کو بد نام کرنے اور انہیں غدار ثابت کرنے کی مہم زوروں پر ہے، نان ایشوز کو ایشوز بناکر میڈیا کے ذریعے قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے جس کا فائدہ ہونے کی بجائے،اس ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی طالع آزما اس ملک پر قابض ہوا ہے یا شوکت عزیز اور عمران خان جیسے حکمران ملے ہیں وہ قوم کو انتظامی اور سیاسی طور پر شدید نقصان پہنچا کر گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے اور معیشت کی تباہی کے بعد آئین شکنی کی طرف لشکر کشی شروع کر دی ہے۔ کسی کو ملک کا سیاسی کلچر تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا اور وہی اسے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے مارشل لاء اور کٹھ پتلی سیاستدانوں کے ذریعے عارضی مقاصد پورے کیے جاتے رہے اور اب بھی جاری ہے۔لیکن اگرسیاست بچانے کی طرف توجہ نہ دی گی تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…