جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

اگر حکومت گرانے میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ نہ دیا تو پھر کیا ہو گا؟ جمعیت علمائے پاکستان نے حیران کن دعویٰ کر دیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیراعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ حکومت مخالف جماعتوں کا متحد ہونا ضروری ہے، متحدہ اپوزیشن کو مولانا فضل الرحمن کی آواز کے ساتھ آواز میں ملانی چاہیے، ورنہ پہلے سے زیادہ کمزور ہوں گے۔متحدہ مجلس عمل کی حکومت مخالف تحریک سے صرف وہی جماعتیں دور ہو رہی ہیں جن کی اپنی مجبوریاں ہیں،

جے یو پی کی کوئی مجبوری نہیں ہم جمہوری روایات اور آئین کی حفاظت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی حکومت مخالف تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت سے نجات ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے جمہوری روایات کو تباہ کیا گیا ملکی معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے عام آدمی معیشت کے چکر میں پھنس چکا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں کہیں خودکشیوں کی شرح میں اضافہ نہ ہوجائے۔ غیر رسمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ سیاستدانوں کو بد نام کرنے اور انہیں غدار ثابت کرنے کی مہم زوروں پر ہے، نان ایشوز کو ایشوز بناکر میڈیا کے ذریعے قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے جس کا فائدہ ہونے کی بجائے،اس ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی طالع آزما اس ملک پر قابض ہوا ہے یا شوکت عزیز اور عمران خان جیسے حکمران ملے ہیں وہ قوم کو انتظامی اور سیاسی طور پر شدید نقصان پہنچا کر گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے اور معیشت کی تباہی کے بعد آئین شکنی کی طرف لشکر کشی شروع کر دی ہے۔ کسی کو ملک کا سیاسی کلچر تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا اور وہی اسے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے مارشل لاء اور کٹھ پتلی سیاستدانوں کے ذریعے عارضی مقاصد پورے کیے جاتے رہے اور اب بھی جاری ہے۔لیکن اگرسیاست بچانے کی طرف توجہ نہ دی گی تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…