آصف علی زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں8 روز کی توسیع فریال تالپورسے متعلق بھی بڑا حکم جاری

  جمعرات‬‮ 8 اگست‬‮ 2019  |  16:00

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زر داری کے جسمانی ریمانڈ میں آٹھ روز کی توسیع کر دی ۔ جمعرات کو جعلی اکائونٹس کیس کی سماعت ڈیوٹی جج طاہر محمود نے کی ۔ دور ان سماعت فریال تالپور احتساب عدالت میں پیش ہوئیں ۔ ڈیوٹی جج نے کہاکہ کیس کا تفتیشی افسر کہاں ہے؟نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ تفتیشی افسر آصف زرداری کیساتھ آ رہے ہیں۔ ڈیوٹی جج نے کیس کے تفتیشی افسر آنے تکسماعت میں وقفہ کر دیا ۔ بعد ازاں آصف علی زرداری کو سخت سیکیورٹی میں عدالت لایا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ


آصف زرداری کا کتنا جسمانی ریمانڈ ہو چکا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایاکہ آصف زرداری کا 58 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہو چکاہے ۔ جج طاہر محمود نے کہاکہ ریمانڈ کے پہلے دن اور آخری دن کی ڈائری دکھائیں۔ تفتیشی افسرنے کہاکہ آخری تین دن کی ڈائری دی ہے وقت دیں تو باقی بھی پیش کر دونگا۔ جج نے کہاکہ آخری دس روزہ ریمانڈ پر کیا ڈویلپمنٹ ہوئی، مجھے ان دنوں کی رپورٹ دیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے سابق صدر آصف علی زرداری کی 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔ تفتیشی افسر نے کہاکہ جتنی تفتیش ہو چکی اس بنا پر عید کے دس دن بعد عدالت میں عبوری ریفرنس دائر کرونگا۔ انہوں نے کہاکہ مزید 8 روزہ ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کر سکوں۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف زرداری بے گناہ ہیں اور ان کے خلاف کیس بدنیتی پر مبنی ہے، آصف زرداری کا ان کیسز سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم ریمانڈ کی مخالفت نہیں کرینگے، انکو تفتیش کرنے دیں، 19 اگست کو ریفرنس سماعت کے لئے مقرر ہے ریمانڈ میں بھی تب تک توسیع کر دی جائے۔ جج طاہر محمود نے کہاکہ 19 تک نہیں ہو سکتا 16 اگست کو دوبارہ پیش کریں، بس آپ لوگ واپس جائیں ، وکیل یہاں موجود ہیں۔ آصف زر داری نے جج سے مکالمہ کیا کہ ہم کہاں جائیں ؟ ضمانت پر تو ہیں نہیں جو جائیں۔ بعد ازاں عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں 8 روزہ توسیع کرتے ہوئے 16 اگست کو آصف زرداری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دوران سماعت عید پر آصف علی زرداری کو بچوں سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہفتے میں دو بار بچوں کو ملاقات کی اجازت عدالت نےپہلے سے دے رکھی ہے انہوں نے استدعا کی کہ عید پر خصوصی ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جج طاہر محمود نے کہاکہ میں درخواست کو دیکھ لیتا ہوں پھر فیصلہ کرونگا۔دور ان سماعت آصف زردادی روسٹرم پر آگئے اور کہاکہ چالیس سوالات کے لئے وکیل سے مشاورت کے لئے آدھا گھنٹہ دیا گیا ،وکیل سے مشاورت کے بغیر کیسے جواب دوں؟مجھے اپنا کیس لڑنا ہے وکلاء سے ملنے دیا جائے گا تو کیسے ہو گا۔جج نے کہاکہ آپ اپنے وکیل کے ذریعے اپنے مسائل سے آگاہ کریں۔ بعد ازاں سابق صدر آصف علی زرداری کو وکیل فاروق ایچ نائک اور لطیف کھوسہ سے ملنے کی اجازت دیدی۔دور ان سماعت عدالت نے فریال تالپور کے جسمانی ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کر تے ہوئے (آج) جمعہ کو دوبارہ پیش کرنیکا حکم دیا ۔ فریال تالپور نےکہاکہ (آج) جمعہ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس ہے مجھے وہاں جانا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہم نے راہداری ریمانڈ کی استدعا کر رکھی ہے۔فریال تالپور نے کہاکہ ریمانڈ میں 16 اگست تک کی توسیع کر دی جائے۔فریال تالپور نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کیا کہ ابڑو صاحب ایک دن کا ریمانڈ کیا ہوتا ہے، جج طاہر محمود نے کہاکہ نیب کی استدعا سے زیادہ ریمانڈ تو نہیں دیا جا سکتا۔


موضوعات: