بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کلبھوشن یادیو،عالمی عدالت کا فیصلہ،جیت کس کی ہوئی؟ پاکستان یا بھارت؟جسٹس (ر)وجیہہ الدین نے بڑے سوال کا جواب دیدیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 18  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی)عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ کلبھوشن اور ٹیٹھیان(ٹی سی سی) بین الاقوامی کیسوں کے تضادات کھل کر سامنے آگئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کیس میں انٹرنیشنل کورٹ موجود تھا اور بھارت نے اس کے در پر دستک دی، وہاں بڑا و باوثوق ملک ہونے کے باوجود بھارت من پسند نتائج کے حصول میں ناکام رہا

اور کیس کو یہ کہہ کر پاکستان کے حوالے کردیا گیا کہ ملزم کو پاکستان اپنی صوابدید پر نظر ثانی کا موقع فراہم کرے اور حتمی پاکستانی عدالتی حکم آنے تک سزائے موت پر عمل در آمد موخر رکھا جائے۔ دوسری طرف ٹیٹھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) اپنی پسند کے ٹربیونل سے جس میں خود پاکستان نے ایک انگریز کو اپنا ممبر نامزد کیا، صرف 220 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے تقریبا 6 ارب ڈالر کا ایوارڈ لینے میں کامیاب ہوگئی۔ جسٹس (ر) وجیہہ کا کہنا تھا کہ تقریبا 25 گنا ہرجانہ بھرنے کے بجائے پاکستان کو تو کان کنی عمل معطل ہونے کے ناطے اس سے کہیں زیادہ ہرجہ خرچہ ملنا چاہئے تھا۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ٹی سی سی ٹھیکہ میں بد عنوانی ثابت کرتے، اپنے ہی ججوں و وکلا کو گرفتار کرانا چاہتے ہیں اور وہ بھی صرف اس لئے کہ ماضی کے پرویز مشرف کے ساتھی اب پی ٹی آئی کا لبادہ اوڑھ کر اقتدار کے ایوانوں میں دوبارہ رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ عام لوگ اتحاد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خود پرویز مشرف کے قول پر عمل کرتے ہوئے پاکستان ہماری اولین ترجیح ہونا چاہئے اور 6 ارب ڈالر کے نئے جال سے نکلنے کی تراکیب تلاش کرنی چاہئیں، جیسے نظر ثانی کی درخواست، یوروپین کورٹ تک رسائی اور خود آسٹریلوی حکومت سے تعمیری گفت و شنید وغیرہ ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اسی طرح کی ایک اور بے سروپا سزا یعنی عافیہ صدیقی کی 86 سالہ قید جیسے بھنور میں پھر سے پھنس جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…