اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے وکیل کا منفرد نام’’استغفراللہ‘‘ توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 11  جولائی  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے سامنے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ جب قتل کے ملزم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کا نام استغفر اللہ کہہ کر پکارا گیا۔

جس پر عدالت میں سب کے ہونٹوں پر ہنسی بکھر گئی۔ عدالت کے فاضل جج کی جانب سے استغفر اللہ نامی وکیل سے سوال کیا گیا کہ آپ کس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ہیں تو وکیل استغفر اللہ نے بتایا کہ وہ ملزم سلمان کی جانب سے پیش ہوئے ہیں جس کے خلاف قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔جس پرسپریم کورٹ کے فاضل جج نے شگفتہ انداز میں کہا کہ آپ کا نام بہت اچھا ہے۔ میں اس لیے بھی آپ کا نام لے کر پکارتا ہوں ہوں کیونکہ آپ کے نام استغفر اللہ سے ہمارے گناہ جھڑتے ہیں۔فاضل جج کے ان ریمارکس سے بھی عدالت میں موجود تمام حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے۔ وکیل استغفر اللہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے عالم زیب کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کی قتل کے ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کر دی تھی تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے عالم زیب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا تھا۔ تاہم مخالف فریق کی جانب سے ملزم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وکیل استغفر اللہ کے موکل عالم زیب کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…