اینکر مرید عباس کے قتل میں عاطف زمان کے بھائی عدنان زمان بھی ملوث،عاطف زمان کے اعتراف جرم کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات

  بدھ‬‮ 10 جولائی‬‮ 2019  |  23:37

کراچی(این این آئی)اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کے قتل کی تفتیش تیزی کے ساتھ جاری ہے، پولیس نے اس سلسلے میں ملزم عاطف زمان کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جبکہ اس کی گاڑی کو تحویل میں لیتے ہوئے 40 سے زائد گولیاں برآمد کی ہیں،قتل میں عاطف زمان کے بھائی عدنان زمان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے،دوران تفتیش عاطف زمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات کئے ہیں، ڈی آئی جی ساؤتھ نے مرید عباس سمیت 2 افراد کے قتل کےواقعے پر تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی


ہے،۔تفصیلات کے مطابق اینکرمریدعباس کے قتل میں ملوث نجی اسپتال میں زیر علاج ملزم عاطف زمان نے پولیس کو گذشتہ روز کے واقعے پر اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیاہے،جس میں ملزم نے بتایا کہ وہ امپورٹڈ ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے، جس میں مرید عباس سمیت میڈیا انڈسٹری کے کئی افراد نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ملزم عاطف زمان نے بتایا کہ مجھے مرید عباس اور ساتھیوں کی جانب سے بلیک میل کیا جارہا تھا،بلیک میلنگ سے تنگ آکر میں نے ان دونوں کو قتل کیا۔دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا بیان حتمی نہیں ہے،حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان لیا جائے گا۔دوسری جانب تفتیشی حکام نے انکشاف کیاہے کہ فائرنگ سے نجی ٹی وی چینل کے نیوز اینکر مرید عباس کے قتل کی واردات میں عاطف زمان کا بھائی بھی ملوث ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق واردات کے بعد گاڑی عدنان زمان چلا رہا تھا، جس نے اپنے بھائی عاطف زمان کو گھر پہنچایا اور پھر وہاں سے فرار ہوگیا۔تفتیشی حکام کے مطابق عدنان زمان کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس حکام کے مطابق شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے لگتا ہے کہ واقعے میں ایک سے زائد افراد ملوث ہیں،اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین سو کروڑ روپے سے ٹائر کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی گئی ہے،شواہد سے لگتا ہے عاطف زمان رقم وصول کرنے والا مرکزی کردار تھا۔تفتیشی حکام کے مطابقواقعے کے بعد پولیس کو زین نامی شخص نے ون فائیو پر واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے ایک شخص کو بڑی گاڑی سے خضر حیات پر فائرنگ کرتے دیکھا ہے،زین واقعہ کا عینی شاہد بھی ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق آٹھ بجے کے قریب تمام افراد عاطف زمان کے دفتر میں جمع ہوئے،جہاں رقوم کے تنازعے پر پر وقوعہ رونما ہوا،واقعے کے بعد پولیس عاطف زمان کو گرفتار کرنے گھر گئی تو عاطف زمان نے پولیس کے پہنچنے پر خود کو گولی ماری۔پولیس ذرائع کے مطابقملزم عاطف نے مکمل ہوش و حواس میں فائرنگ کی،موقع واردات پراور لوگ بھی موجود تھے، ملزم نے صرف مرید عباس اور خضر کو نشانہ بنایا،ملزم عاطف پانچ افراد کو قتل کرنا چاہتا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات سے قبل ملزم نے مرید عباس، خضر حیات سمیت پانچ افراد کو فون کیا تھا، ملزم عاطف زمان نے مقتولین کے ساتھ دیگر کاروباری شراکت داروں کو بھی فون کرکے بلایا تھا،اس کے موبائل فون سے پیتیس سے زائد افراد سے متعلق معلومات حاصل کرلی گئیں ہیں،جنہیں معلومات کے لئے شامل تفتیش کیا جائے گا۔پولیس کے مطابق ملزم نے خضر حیات کو چھوٹا بخاری جبکہ مرید عباس کو بڑا بخاری بلایا تھا جبکہ ملزم عاطف نے مرید عباس کو دفتر کے اندر نشانہ بنایا ا ور خضر پر دفتر کے باہر آکر فائرنگ کی۔دوسری جانب تفتیشی حکام نے عاطف زمان کی گاڑی تحویل میں لے لی ہے، گاڑی سے انتالیس سے زائد گولیاں برآمد ہوئیں ہیں۔تفتیشی حکام کے مطابق قتل کی واردات کے بعد ملزم نے چلتی ہوئی گاڑی میں فائرنگ کرکے خودکشی کی کوشش کی،گولی ملزم کے دل کے قریب لگی، ملزم ماہر نشانہ باز لگتا ہے، جبکہ مقتول مرید عباس اور ملزم عاطف ایک ہی عمارت میں رہائش پذیرتھے۔تفتیشی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ کسی اور کا نکلا تو نیا مقدمہ درج کیا جائیگا۔دریں اثناء پولیس نے مرید عباس سمیت 2 افراد کے قتل کے واقعے پر تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل کے مطابق کمیٹی کی سربراہی ایس ایس پی طارق دھاریجو کریں گے، کمیٹی میں ایس ایس پی ساؤتھ، ایس پی کلفٹن، ایس ایچ او درخشاں اور ایس آئی یو درخشاں شامل ہیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تنازع 20 کروڑ کا تھا، عاطف زمان بیرون ملک سے ٹائر امپورٹ کرتا تھا۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عاطف زمان اسپتال میں ہے،اس کی گرفتاری وہیں سے ڈالی جائے گی،24گھنٹے میں کیس کو حتمی مراحل میں لے جائیں گے۔

loading...