جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

بیٹوں کے پاس سب کچھ لیکن باپ نہیں،میں اللہ کے پاس چلا جائوں گا لیکن حرام کھانے والوں کے پاس نہیں،عظیم شخص نے حرام کھانے والے اپنےبیٹوں کو چھوڑدیا

datetime 16  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج انٹرنیشنل فادرز ڈےمنایا جارہا ہے ، موقع کی مناسبت سے سوشل میڈیا پر ایک ایسے شخص کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے حرام کا پیسہ کمانے والے بیٹوں کو چھوڑ دیا۔ عظیم بزرگ بابا کا کہنا ہے کہ میں نے 33 سال سرکاری نوکری کی۔میں فنانس ڈپارٹمنٹ میں نوکری کر رہا تھا۔میں نے حق حلال کی کمائی سے بچوں کو پالا۔

اپنے بچوں کو پڑھایا اور لکھایا۔بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور پھر ان کو نوکری بھی دلوائی لیکن میرے بچے اب حرام کمانے لگ گئے ہیں۔انہوں نے اتنا کمایا کہ انہوں نے پانچ کروڑ کی جائیداد بنا لی۔ان کے بنگلے اور دو گاڑیاں بھی ہیں۔ان کے پاس بینک بیلنس بھی ہے اور سب کچھ ہے لیکن باپ نہیں ہے۔ان کے لیے باپ مر چکا ہے۔مجھے بیٹے نہ تو دوائی کے پیسے دیتے ہیں اور نہ ہی کھانے کے پیسے دیتے ہیں۔بزرگ بابا کا مزید کہنا تھا کہ شاہد یہی زندگی ہے۔مجھے دو ماہ ہو گئے اس ہسپتال میں لیکن مجھے ایک بھی بیٹا پوچھنے نہ آیا کہ بابا جی آخر آپ کی طبیعت کیسی ہے؟۔مجھے یہاں گھر سے کوئی پوچھنے نہ آیا لیکن کوئی بات نہیں۔میرے بیٹے مجھے کہتے تھے کہ ہمارا باپ ہاتھ جوڑ کر ہمارے پاس آئے گا لیکن میں نے کہا کہ میں تم لوگوں کے پاس نہیں جاؤں گا بلکہ اللہ کے پاس جاؤں گا۔تم لوگ حرام کمائی کماتے ہو میں تم لوگوں کے پاس نہیں آؤں گا۔بزرگ شخص نے حکومت سے درخواست کی کہ میری تھوڑی امداد کریں۔میں سید ہوں میں صدقہ اور خیرات نہیں لے سکتا لیکن کوئی میری امداد کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔میری حکومت سے بھی درخواست ہے کہ مجھے چھوٹا سا گھر لے دیں جس میں میں رہ سکوں۔بزرگ شخص نے اپنا نام سید عبدالخالق ہاشمی بتایا اور کہا کہ ابھی میرا خرچہ دوست اٹھا رہے ہیں۔میری آنکھوں کے چشمے بھی ہسپتال سے چوری کر لیے گئے تھے اگر میری کوئی مدد کرے گا تو اللہ اسے جزا دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…