اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان جسے وزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتے تھے اسے نہیں بنا سکے،معاشی بد حالی کے باعث حکومت کی کامیابیاں نظر انداز ہو گئیں، جہانگیر ترین کھل کربول پڑے

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ معاشی بد حالی کے باعث حکومت کے اچھے کام اور کامیابیاں بھی نظر انداز ہو گئی۔ بجلی چوروں سے 58 ارب روپے اکھٹے کئے، 80 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری روک دی جبکہ 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔ عمران خان جسے وزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتے تھے اسے نہیں بنا سکے عثمان بزدار تجربے کے ساتھ ساتھ بہتر کام کر رہے ہیں

کارکردگی نہ دیکھانے والوں کو تبدیل کرنے میں وزیراعظم عمران خان دیر نہیں لگاتے۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ آج ہم مسائل میں گرے ہیں غیر یقینی صورتحال نے ہمیں یہاں تک پہنچایا معاشی بہتری کے لئے اکنامک ٹیم تبدیل کی، تبدیلی کے نتائج نظرآ رہے ہیں۔ نئی ٹیم کے آنے سے ہم غیر یقینی صورتحال سے نکل آئیں گے انہوں نے کہا کہ معاشی خرابی کے باعث ہمارے اچھے کام بھی چھپ گئے موجودہ حکومت نے بجلی چوروں سے 58 ارب روپے اکھٹے کئے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر کے قابل عمل بنایا جبکہ پاکستان میں 80 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری روک دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بجلی پر نجی شعبے کے 470 ارب روپے کے واجبات ہیں کوشش ہے کہ جون 2020 تک گردشی قرضہ ختم کر دیں انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئر مین عمران خان کے توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تھے جو بھی توقعات پر پورا نہیں اترے کا اسے تبدیل کر دیا جائے گا کارکردگی نہ دیکھانے والے کو ہٹانے میں وزیراعظم عمران خان دیر نہیں لگائیں گے پنجاب میں بلدیاتی قانون پاس ہونا تحریک انصاف حکومت کی بڑی کامیابی ہے عمران خان اپنی مرضی کے شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب نہیں لگا سکے تا ہم وزیراعلیٰ عثمان بزدار تجربے کے ساتھ ساتھ بہتر کام  کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی معیشت کے کام بے لگام تھے سخت فیصلے کر کے  معیشت کو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کراچی کے حوالے سے کئے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے کراچی سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بھاری رقم اکھٹی کی جا سکتی ہے جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کاا حساس ہے بجٹ میں غریب طبقے کے لئے سبسڈی رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…