پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

قومی ایئرلائن کے باکمال ملازمین کا ایک اور لاجواب کارنامہ ،پی آئی اے کافلائٹ اسٹیورڈ لندن میں گرفتار، افسوسناک انکشافات

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

لندن، اسلام آباد(آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے باکمال ملازمین نے ایک لاجواب کارنامہ سرانجام دیا ہے، ویزہ منسوخ ہونے کے باوجود فلائٹ اسٹیورڈ لندن پہنچ گیا جسے برطانوی امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد سے پی کے 701 پر جعل سازی کر کے جنرل ڈیکلریشن پر مانچسٹر پہنچنے والیفلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو برطانوی امیگریشن نے حراست میں لے لیا۔

بتایا گیا ہے کہ فضائی میزبان برطانیہ کے ویزے کے حصول کی منسوخی پر جنرل ڈیکلیریشن ہر ڈیوٹی نہیں کر سکتا، پی آئی اے کے فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود نے یوکے کے ویزہ کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی جبکہ انتظامیہ بھی غافل رہی اور یوکے امیگریشن نے معمول کے چیک پر ملازم کو گرفتار کر لیا۔دوسری جانب پی آئی اے پر جرمانہ عائد کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ بغیر ویزہ مانچسٹر کی پرواز پر ڈیوٹی کیسے کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو پہلی دستیاب پرواز پی کے 702 پر واپس لایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل قومی ایئر لائن کی لاہور سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبان بھی دوران ڈیوٹی پیرس میں غائب ہو گئی تھی۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی خاتون فضائی میزبان شازیہ سعید 6 اپریل کو سیالکوٹ سے پیرس پہنچی تھی اور ا?سے قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے 734 کے ذریعے لاہور آنا تھا۔فضائی میزبان پیرس کے ہوٹل میں مقیم تھی اور وہ کسی کو بتائے بغیر اپنا سامان لے کر بیلجیئم چلی گئی تھی۔ شازیہ نے بیلجیئم جانے سے پہلے نوکری سے استعفیٰ دیا تھا۔ذرائع کے مطابق ائر ہوسٹس شازیہ نے لاہور سے سفارش کے ذریعے اپنی ڈیوٹی پیرس جانے والی فلائٹ پر لگوائی تھی جب کہ پیرس میں پی آئی اے کے اسٹیشن مینِجر نے فضائی میزبان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…