پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

قومی ایئرلائن کے باکمال ملازمین کا ایک اور لاجواب کارنامہ ،پی آئی اے کافلائٹ اسٹیورڈ لندن میں گرفتار، افسوسناک انکشافات

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

لندن، اسلام آباد(آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے باکمال ملازمین نے ایک لاجواب کارنامہ سرانجام دیا ہے، ویزہ منسوخ ہونے کے باوجود فلائٹ اسٹیورڈ لندن پہنچ گیا جسے برطانوی امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد سے پی کے 701 پر جعل سازی کر کے جنرل ڈیکلریشن پر مانچسٹر پہنچنے والیفلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو برطانوی امیگریشن نے حراست میں لے لیا۔

بتایا گیا ہے کہ فضائی میزبان برطانیہ کے ویزے کے حصول کی منسوخی پر جنرل ڈیکلیریشن ہر ڈیوٹی نہیں کر سکتا، پی آئی اے کے فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود نے یوکے کے ویزہ کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی جبکہ انتظامیہ بھی غافل رہی اور یوکے امیگریشن نے معمول کے چیک پر ملازم کو گرفتار کر لیا۔دوسری جانب پی آئی اے پر جرمانہ عائد کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ بغیر ویزہ مانچسٹر کی پرواز پر ڈیوٹی کیسے کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق فلائٹ اسٹیورڈ عمران محسود کو پہلی دستیاب پرواز پی کے 702 پر واپس لایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل قومی ایئر لائن کی لاہور سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبان بھی دوران ڈیوٹی پیرس میں غائب ہو گئی تھی۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی خاتون فضائی میزبان شازیہ سعید 6 اپریل کو سیالکوٹ سے پیرس پہنچی تھی اور ا?سے قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے 734 کے ذریعے لاہور آنا تھا۔فضائی میزبان پیرس کے ہوٹل میں مقیم تھی اور وہ کسی کو بتائے بغیر اپنا سامان لے کر بیلجیئم چلی گئی تھی۔ شازیہ نے بیلجیئم جانے سے پہلے نوکری سے استعفیٰ دیا تھا۔ذرائع کے مطابق ائر ہوسٹس شازیہ نے لاہور سے سفارش کے ذریعے اپنی ڈیوٹی پیرس جانے والی فلائٹ پر لگوائی تھی جب کہ پیرس میں پی آئی اے کے اسٹیشن مینِجر نے فضائی میزبان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…