ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟عینی شاہدین کے اہم انکشافات بھارتی پراپیگنڈہ بے نقاب ، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) گرفتار بھارتی پائلٹ ابھے نندن نے گرفتاری سے پہلے ہوائی فائرنگ اور فرارہونے کی کوشش کی .۔نجی ٹی وی نے عینی شاہدین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقامی شہریوں نے فضاء میں دو جنگی جہازوں کو شعلوں میں لپٹے دیکھا جن میں سے ایک کنٹرول لائن کے اس پار جا گرا‘ شعلوں کی لپیٹ میں موجود دوسرا جہاز تیزی سے زمین کی جانب آ رہا تھا۔

طیارے کا ملبہ اس میدانی علاقے میں بکھرگیا۔آزاد کشمیر ضلع بھمبر ہوران گاؤں کے سیاسی وسماجی ورکر50سالہ محمد رزاق چوہدری کے گاؤں کے قریب بھارتی جنگی جہازکا ملبہ گرا انہوں نے بتایا کہ ہمارا گاؤں لائن آف کنٹرول سے 7کلومیٹر دور ہے ‘جہازکے گرنے کے بعد وہ گاؤں کے دیگر لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچے انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایک پیراشوٹ زمین کی جانب آتا نظر آیا ‘ پائلٹ پیرا شوٹ سے بالکل محفوظ حالت میں اترا۔رزاق چوہدری نے کہا کہ انہوں نے فوراً گاؤں کے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ جب تک فوجی اہلکار نہ آجائیں، اس وقت تک وہ طیارے کے ملبے کے قریب نہ جائیں البتہ پائلٹ کو پکڑ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ پستول سے لیس پائلٹ نے نوجوان سے پوچھا کہ یہ پاکستان ہے یا بھارت، جس پر ان نوجوانوں میں سے ایک نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے جواب دیا کہ یہ بھارت ہے۔پائلٹ کی شناخت ونگ کمانڈر ابھے نندن کے نام سے ہوئی جس نے فوراً نعرہ لگایا اور پوچھا کہ یہ بھارت میں کونسی جگہ ہے جس پر اسی نوجوان نے جواب دیا کہ یہ کلان ہے۔ پائلٹ نے انہیں بتایا کہ اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اسے پینے کے لیے پانی درکار ہے‘کچھ نوجوان اس موقع پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا۔

جس پر ابھے نندن نے ہوائی فائر کیا جبکہ نوجوانوں نے ہاتھوں میں پتھر اٹھا لیے۔رزاق نے بتایا کہ پائلٹ نے اپنا پیچھا کرنے والے نوجوانوں کی طرف پستول تان کر پیچھے کی جانب آدھا کلو میٹر تک دوڑ لگائی جبکہ اس دوران اس نے نوجوانوں کو ڈرانے کے لیے چند مزید ہوائی فائر کیے لیکن اس کی یہ کوشش بھی رائیگاں گئی۔ اس کے بعد ابھے نندن نے ایک تالاب میں چھلانگ لگا دی اور اپنی جیب سے دستاویزات اور نقشے نکال کر کچھ کو نگلنے جبکہ بقیہ کو تالاب میں ضائع کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے کے نوجوان پائلٹ سے اصرار کرتے رہے کہ اپنا ہتھیار پھینک دو اور پھر اسی دوران ایک نوجوان نے اس کی ٹانگ پر پتھر مار دیا‘ بالاآخر تالاب سے باہر آگیا اور مطالبہ کیا کہ اسے مارا نہ جائے. نوجوانوں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جبکہ کچھ نے بدلہ لینے کے لیے اس کے ساتھ مار پیٹ بھی کی البتہ دیگر افراد انہیں روکتے رہے‘اس دوران آرمی کے نوجوان بھی آگئے اور پائلٹ کو اپنی حراست میں لے لیا اور نوجوانوں کے غیض و غضب سے بچایا۔حراست لیے جانے والے پائلٹ کو فوجی قافلے میں بھمبر میں موجود فوج کی عمارت میں لے جایا گیا۔

جب یہ قافلہ ہوران سے 50 کلومیٹر دور بھمبر شہر کے خلیل چوک سے گزرا تو سڑک کے دونوں اطراف موجود نوجوانوں نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے فوجی گاڑیوں پر گل پاشی کی اور پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، پاکستان ایئرفورس زندہ باد اور کشمیر زندہ باد کے نعرے لگائے.۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…