نیب کے ہاتھوں اگلی گرفتاری چوہدری پرویز الٰہی کی ہو گی،علیم خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے، بڑا دعویٰ کردیاگیا

  اتوار‬‮ 10 فروری‬‮ 2019  |  22:51

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا یا گیا تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی، نیب کے ہاتھوں اگلی گرفتاری چوہدری پرویز الٰہی سمیت پنجاب کے دیگر تین لوگوں کی ہو گی ،علیم خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے علیم خان کی گرفتاری عمران خان کا فیصلہ ہےوزرا ء اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے بھی فون ٹیپ ہو رہے ہیں ،’’پنڈی کا شیطان‘‘ گرفتاری سے بچ


جائے گا اور وہ اکیلا ہی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا ،پتا نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ؟نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ علیم خان سمیت پنجاب سے تین لوگ اور ہیں جنہیں نیب نے گرفتار کرنا ہے ان تینوں افراد کا تعلق لاہور سے ہے ،ایک سول انٹیلی جنس ایجنسی جو براہ راست وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے وہ ایجنسی ان کے فون ٹیپ کر رہی تھی اور ان کی نگرانی ہو رہی تھی جب اپوزیشن کے 50 لوگ ہوں گے تو پھر حکومت کے پانچ لوگوں کو بھی گرفتار کرنا پڑے گا۔پی ٹی آئی کے اندر ایک مایوسی کا ایلیمنٹ اب احتجاج میں بدل رہا ہے تحریک انصاف کے25 سے 30 ایم پی اے ایسے ہیں جن سے میرے بھی رابطے ہوئے ہیں ان لوگوں سے وعدہ ہوا ہے کہ جب حمزہ شہباز ملک میں واپس آتے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھیں گے،انہوں نے کہا کہ دوسری گرفتاری چوہدری پرویز الٰہی کی ہے جبکہ اسی کے ساتھ پرویز خٹک اور عاطف خان کا بھی نام ہے صرف ایک آدمی جو ’’پنڈی کا شیطان‘‘ ہے وہ اس کے ساتھ رہ جائے گا پتا نہیں اس کے پاس کس کا ایجنڈا ہے ؟انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 تیس ایم پی اے ہیں جن سے رابطہ ہوا ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آزاد منتخب ہوئے تھے جبکہ کچھ تو باقاعدہ طور پر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں یہ سب بہت زیادہ پریشان ہیں،اب دیکھیں علیم خان کا لوگوں پر بڑا احسان ہے علیم خان نے لوگوں کو ٹکٹ دیئے اور ساتھ میں انہیں پیسے بھی دیئے کہ جاو جا کر الیکشن لڑو اگر یہ دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار کرتے ہیں تو پھر میرا نہیں خیال کہ یہ پنجاب میں گورنمنٹ چلا سکیں گے ان حالات کے بعد مجھے تو جمہوریت بھی خطرے میں نظر آ رہی ہے اگر پرویزالہیٰ گرفتار ہوئے تو مارچ تک پنجاب حکومت نہیں چلے گی،انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کی جو لیڈر شپ ہےجس میں میاں نواز شریف ،آصف زرداری اور خورشید شاہ شامل ہیں کا یہ کہنا کہ ہم اس حکومت کو گرانا نہیں چاہتے اس کے پیچھے یہی بات ہے کہ اگر اب کوئی اس قسم کا معاملہ ہوتا ہے تو پھر وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ شائد پھر جمہوریت بھی نہ چل سکے۔انہوں نے کہا کہ سول انٹیلی ایجنسی براہ راست وزیر اعظم کو جواب دیتی ہے اگر وہ ایجنسی علیم خان ، وزرا اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے فون ٹیپ کرتی ہے تو وہ پھر کس کے کہنے پر کر رہی ہے ؟اگر مجھے پتا ہے تو پھر علیم خان اور پرویز الٰہی کو بھی پتا ہو گا ؟یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کو پتا نہ ہو ؟۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ نیب علیم خان کی گرفتاری کے بارے میں ملک کے چیف ایگزیکٹو (وزیر اعظم )کو انفارم نہ کرے میں چیلنج کرتا ہوں کہ وزیر اعظم کہیں کہ مجھے علیم خان کی گرفتاری کا پہلے سے علم نہیں تھا ؟،لوگ جانتے بوجھتے ہیں اور پتا لگتا رہتا ہے جہاں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ آپ کے فون ٹیپ ہو رہے ہیں وہاں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہصرف آپ کے ہی نہیں دوسروں کے بھی ہو رہے ہیں یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ ہمارے فون تو ٹیپ ہو رہے ہیں ہمیں تو پتا ہے لیکن ان کے کیوں ہو رہے ہیں ؟اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عمران خان اپنے وزیروں پر اعتماد نہیں کرتا،انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی بڑے سمجھدار آدمی ہیں ان کو پتا ہے کہ یہ ان کے ساتھ کیا کرنے چاہ رہے ہیں؟انہوں نے تھوڑی آنکھیں دکھائی تھی تو اس کے پیچھے یہی بات تھی ورنہ پہلی قربانی علیم خان کی بجائے چوہدری پرویز الٰہی کی ہوتی، میاں شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا یا گیا تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی۔

موضوعات:

loading...